menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Iran Ka Americi Thappar Ke Jawab Mein Thappar

27 0
11.06.2026

ایران کا امریکی "تھپڑ" کے جواب میں تھپڑ

سالانہ بجٹ کی آمد کے قریب پہنچتے ہوئے دونمبر صحافت کے ذریعے رزق کمانے کا عادی ہوا یہ قلم گھسیٹ بہت خوش تھا کہ کم از کم آئندہ دو ہفتوں تک اس کالم میں سیاپا فروشی کے ذریعے اپنی ہٹی پہ رونق لگائوں گا۔ گزشتہ مالیاتی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ اورنگزیب صاحب نے قومی خزانے میں ٹیکسوں کی بدولت جو رقم جمع کرنے کا ہدف دیا تھا ہمارے افسران جمع کرنے میں ناکام رہے۔ تاجروں، دوکانداروں اور صنعت کاروں سے گفتگو کرو تو وہ کسادبازاری کا رونا روتے ہوئے "ٹیکس کہاں سے دیں " کی دہائی مچاتے ہیں۔ ان کی دہائی پر نوجوانی میں سوشلزم کی نذر ہونے کی وجہ سے اعتبار نہ کرتا۔

گزری عید کی طویل چھٹیوں کے دورن مگر چھوٹے رقبوں کے چند مالکان سے گفتگو ہوئی۔ ان کے دعوے ذاتی مشاہدے کی وجہ سے قابل اعتماد ٹھہرانے کو مجبور ہوا۔ حسبِ روایت عید قربان سے قبل انہوں نے کچھ جانور خرید کردو سے تین ماہ کے خرچ کے ذریعے منڈی میں فروخت کے لئے پرکشش بنائے تھے۔ وہ مگر اپنا خرچ بھی پورا نہ کرپائے۔ منافع سے محرومی نے انہیں مزید پریشان کردیا۔

چھوٹے رقبوں کے مالکان کے علاوہ اسلام آباد کے محلوں سے متصل چند مارکیٹوں کی روزمرہّ ضرورت کی اشیاء فروخت کرنے والے جنرل سٹورز کے مالکان سے گفتگو ہوئی تو وہ بھی مندی کی شکایت کرتے پائے گئے۔ میرے گھر کے قریب واقع ایک مشہور بیکری کے قریب آج سے 6ماہ قبل تک پھول اور ان کے گلدستے فروخت کرنے والوں کے چھ ٹھیلے........

© Daily Urdu