menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Gul Plaza Ki Aag Se Uthte Sawalat

17 33
22.01.2026

بیروزگاری کی مسلط کردہ دربدری کی بدولت اگست 1977ء سے 1978ء کے اگست تک میں کراچی میں مقیم رہا۔ سڑکوں پر گھنٹوں کی خجل خواری اور چائے خانوں میں رات گئے تک دوستوں سے ہوئی بحثوں کے دوران "مہاجر قومیت" کا سوال ابھرتے دیکھا۔ چند ہی ہفتوں بعد احساس ہوا کہ قیام پاکستان کے بعد یوپی اور بہار سے سندھ منتقل ہونے والے گھرانوں کی تیسری نسل ریاست پاکستان سے بیگانہ ہورہی ہے۔ "کوٹہ سسٹم" کی وجہ سے سرکاری ملازمتوں میں ان کا حصہ مضحکہ خیز حد تک سکڑچکا تھا۔ دارالحکومت کی اسلام آباد منتقلی کے بعد چھوٹی موٹی کلرکی بھی نصیب نہیں ہورہی تھی۔ اس نسل کو گلہ یہ بھی تھا کہ "اسلام کی خاطر" بھارت سے ماضی کے مشرقی پاکستان آئے بہاریوں کو بنگلہ دیش شہری حقوق دینے کو رضا مند نہیں اور پاکستان بھی انہیں اپنے ہاں کھپانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔

جو شکایات سنیں وہ کئی حوالوں سے واجب تھیں۔ ان دنوں ملکی سیاست پر چھائے افراد مگر اردو بولنے والوں کی نوجوان نسل کے دلوں میں ابلتے جذبات سے لاتعلق نہیں بلکہ قطعاََ غافل تھے۔ میں اس خدشے میں مبتلا رہا کہ ایک دن یہ جذبات لاوے کی صورت پھٹ سکتے ہیں۔ زیادہ خوف یہ سوچ کر بھی محسوس ہوتا کہ جنرل ضیاء کی حکومت ذوالفقار علی بھٹو اور پیپلز پارٹی کی نفرت میں نام نہاد "شہری" اور "دیہی" سندھ میں تقسیم کے جذبات کو مکاری سے بھڑکارہی ہے۔ بالآخر 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں پیر پگاڑا کے مرید محمد خان جونیجو وزیر اعظم پاکستان نامزد ہوئے۔ ان کی نامزدگی کے بعد سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہونے سے قبل ہی پیر صاحب کے ایک اور مرید غوث علی شاہ کو بھی سندھ کا وزیر اعلیٰ نامزد کردیا گیا۔

اپنی حلف بر داری کے بعد شاہ صاحب نے سندھ اسمبلی میں جو تقریر........

© Daily Urdu