Aala Taleemi Satah Par Scienci Qabiliat Ki Ghalat Jaanch
اعلیٰ تعلیمی سطح پر سائنسی قابلیت کی غلط جانچ
حیاتیاتی علوم کی تعلیم زندگی کی تفہیم کا سب سے اہم ذریعہ ہے، مگر اس تعلیم کی اصل روح صرف نصابی مواد تک محدود نہیں بلکہ اس طریقۂ تدریس اور اسیسمنٹ سے جڑی ہوئی ہے جس کے ذریعے طالب علم کی صلاحیت کو پرکھا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی نظام میں نہ صرف تدریس رٹائی پر مبنی ہے بلکہ امتحانی نظام بھی اسی ذہنیت کا عکاس ہے۔ خاص طور پر بی ایس اور ایم ایس سی جیسے اعلیٰ تعلیمی درجات پر جو امتحانی ڈھانچہ رائج ہے، وہ سائنسی اصولوں، انسانی دماغ کی ساخت اور سیکھنے کے فطری عمل سے کھلی متصادم نظر آتا ہے۔
ایک طرف چھ ماہ، بعض اوقات پورے سال کا کورس پڑھایا جاتا ہے، جس میں درجنوں ابواب، سینکڑوں تصورات، پیچیدہ حیاتیاتی راستے (pathways)، تجرباتی نتائج، نظریات اور تحقیقی مباحث شامل ہوتے ہیں اور دوسری طرف صرف ایک دن، تین گھنٹے، یا بعض اوقات محض سو نمبروں کے ایک پیپر میں طالب علم کی مجموعی قابلیت، فہم، محنت اور ذہنی استعداد کو جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سائنسی اصول کے مطابق یہ طریقہ خود اپنے اندر ایک بنیادی تضاد رکھتا ہے، کیونکہ انسانی ذہن کی کارکردگی کو اس طرح ایک لمحاتی دباؤ میں جانچنا نہ تو درست پیمانہ ہے اور نہ ہی منصفانہ۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ طالب علم محنت نہیں کرتا۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ زیادہ تر طلبہ مسلسل محنت کرتے ہیں، لیکچرز سنتے ہیں، نوٹس بناتے ہیں، کتابیں پڑھتے ہیں، حتیٰ کہ کئی کئی بار نصاب دہراتے ہیں۔ مگر جب نتیجہ سامنے آتا ہے تو ایک عجیب اور مستقل پیٹرن دکھائی دیتا ہے:
چالیس یا پچاس طلبہ پر مشتمل کلاس میں بمشکل ایک یا دو طالب علم 80 یا 85 نمبر حاصل کر پاتے ہیں، چند ایک 70 کے قریب آ جاتے ہیں، جبکہ اکثریت 50 سے 60 کے درمیان یا اس سے بھی نیچے رہ جاتی ہے اور ایک قابلِ ذکر تعداد ہر سال فیل ہو جاتی ہے۔ یہ صورتِ حال کسی ایک مضمون تک........
