Shayari, Zuban, Pura Admi, Kuza Gari
شاعری، زبان، پورا آدمی، کوزہ گری
شاعری کا ایک امتیاز اس کی زبان بھی ہے۔ بجا کہ زبان ہر جگہ، ہر پل ہمارے ساتھ ہے۔ دوسرے آدمی سے بات چیت سے لے کر خود سے کلام تک۔ گھر میں عام بول چال سے، مدارس، مساجد، جامعات، بازار، میڈیا تک اور منطق وفلسفہ سے مذہب، فکشن، تاریخ، فلسفہ و سائنس تک۔ زبان، اپنے مکمل وجود کے ساتھ کہیں ظاہر نہیں ہوپاتی۔
یہ صرف شاعری ہے جس میں پوری زبان ظاہر ہوتی ہے۔ اپنے لغوی، مجازی، تمثیلی، استعاراتی، علامتی، تجریدی پہلوؤں کے ساتھ۔
تسلیم کہ پورا انسان کہیں ظاہر نہیں ہوسکتا۔ یہ بھی تسلیم کہ زبان، انسان کی سب سے اہم، سب سے پیچیدہ اور سب سے عظیم ایجاد ہے، بجا کہ زبان، دنیا میں انسان کے موجود ہونے اور اس دنیا کو سمجھنے، برتنے کی سب سے بڑی مظہر ہے، ا س کے باوجود زبان پورے انسان کا بوجھ سہارنے سے قاصر ہے۔
لیکن انسان کے دل و وجدان، ذہن وتخیل کی وحشت بھری دنیائیں اگر کہیں، زیادہ سے زیادہ ظاہر ہوسکتی ہیں تو وہ شاعری ہی ہے۔ شاعری پورے انسان کابوجھ اٹھانے کا حوصلہ رکھتی ہے!
سیفو نے کہا: "جسے ہم کہہ نہیں سکتے، اسے رو دیتے ہیں"۔
ضروری نہیں کہ آنکھوں سے روئیں، ہم شاعری میں رو دیتے ہیں۔ جو آنسو شاعر ی میں گرتے ہیں، وہ کبھی آنکھ سے نہیں ٹپکے ہوتے۔ آنکھ سے ٹپکے آنسو خشک ہوجایا کرتے ہیں، بے اثر بھی رہا کرتے ہیں، مگر شاعری میں گرنے والے آنسو، دنیا، تقدیر اور دوسرے آدمی کے خلاف استغاثہ بن کر سدا باقی رہتے ہیں اور ان کا اثر قرنوں تک ہوا کرتا........
