Masnoi Zahanat: Prompt, Likhne Ki Zimmedari Aur Digital Ehad Ka Sunar (2)
مصنوعی ذہانت: پرامپٹ، لکھنے کی ذمہ داری، اور ڈیجٹل عہد کا سنار (2)
خیر، اس سب پر کچھ کڑے سوالات قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے، اخلاقی سوال سامنے آتا ہے۔ یہ کہ آپ "کسی اور" کی تحریر کو اپنے نام سے کیسے پیش کرسکتے ہیں؟
یہ کہنا کہ جنریٹو مصنوعی ذہانت خود اپنے طور پر کچھ لکھتی ہے، نہ اسے لکھنے کی تحریک ہوتی ہے، وہ آپ کی ہدایات، تجاویز اور مشوروں کے مطابق لکھتی ہے، اس لیے اس کا حقِ تصنیف آپ کے پاس ہے، حقیقی معنوں میں دلیل نہیں، ایک کمزور دفاع ہے اور کمزور کا دفاع ہے۔
کمزور دفاع میں سامنے آنے اور کڑی سچائی کا سامنا کرنے سے گریز پایا جاتا ہے۔ اس ضمن میں کئی چیزوں کو چھپایا جاتا ہے اور خود کسی آڑ میں چھپنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہاں بھی پرامپٹ، کو آڑ بنایا گیا ہے اور اس کے پیچھے، اپنے نہ لکھ سکنے کی معذوری یا اعتما دکی کمی کو چھپایا جاتا ہے۔
سادہ سی بات ہے جو شخص لکھنے کی اہلیت رکھتا ہے، اسے کسی اور شخص یا مشین پر کلی انحصار کی کیا ضرورت ہے؟ تاہم یہ کہنے کی ضرورت ہے کہ خالی لکھنے کی اہلیت کافی نہیں، اس اہلیت پر اعتماد بھی ضروری ہے۔
اور یہ اعتماد کچھ لوگوں کے یہاں، مستند ادیبوں کی داد و تحسین سے آیا کرتا ہے، یعنی دوسروں کی سند ہی انھیں اعتماد بخشا کرتی ہے، جب کہ کچھ مصنفین کے یہاں خود لکھنے کے نتیجے میں، اعتماد پیدا ہوا کرتا ہے، خاص طور پر، جب وہ اپنی ہر تحریر کو ایک گہرا تجربہ بنتے، دل میں انوکھی مسرت، وسعت، گہرائی اور ٹھہراؤ محسوس کرتے ہیں اور دنیااور خود کو دیکھنے کی نظر میں، ایک ارفع قسم کی تبدیلی رونما ہوتے محسوس کرتے ہیں۔
لہٰذا یہ نتیجہ غلط نہیں کہ جو لوگ مصنوعی ذہانت پر مکمل انحصار کرتے ہیں، ان کے یہاں اوّل لکھنے کی اہلیت ہی موجود نہیں، دوم اگر یہ اہلیت موجود ہے تو وہ اعتما دکی کمی کا شکار ہیں۔
واضح رہے کہ ہر آڑ ہٹ جایا کرتی ہے اور ہر نقاب اتر جایا کرتا ہے۔ پرامپٹ، کی آڑ اسی لمحے ہٹ جاتی ہے، جب آپ لکھنے اور شائع کرنے کو ایک ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
پیشہ وارنہ تحریروں، جیسے ای میل، اشتہار، نوٹس وغیرہ کو بھی اس فہرست سے خارج نہیں کیا جاسکتا ہے کہ وہاں بھی ہر لفظ کسی نہ کسی کو، کسی نہ کسی انداز میں مخاطب کررہا ہوتا ہے، مگر وہ سب تحریریں، جن کا موضوع آدمی، سماج، ماحول، سیاست، مذہب، روایت، تہذیب، علوم، ادبیات، فنون، دنیا، خدا، کائنات اور ان سب کے باہمی رشتے اور ان سے وابستہ مسائل وسوالات ہیں، ایک لازمی اور گہری ذمہ داری رکھتی ہیں۔
لکھنے والا، اپنے اپنے ایک لفظ کے انتخاب، ترتیبِ الفاظ، لہجے، دلائل، تصورات، نتائج سب کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ جو بات، کام، عمل، کسی بھی دوسرے، پر، کسی بھی نوع کا اثر مرتب کرتے ہیں، یا اثر مرتب کرنے کا امکان رکھتے ہیں، ان کی ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے۔
یہ ذمہ داری کوئی باہر سے عائد نہیں کرتا، خود لکھنا، ذمہ دارانہ فعل ہے۔ یہ ذمہ داری، مصنف کے صرف اپنے وجود کے سلسلے میں........
