menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Masnoi Zahanat Ke Taksaal Meindhalay Musanifeen (1)

18 0
05.06.2026

مصنوعی ذہانت کی ٹکسال میں ڈھلے مصنفین (1)

مصنوعی ذہانت ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ عام لوگ اور مختلف شعبوں کے ماہرین، اسے کم یا زیادہ استعمال کررہے ہیں۔ اس کے ضمن میں جو باتیں ابتدا میں ناقابلِ یقین اور عجوبہ لگتی تھیں، وہ اب معمول کی باتیں محسوس ہوتی ہیں۔

اس کی شاعری، فکشن، موسیقی، مصوری، فلم تخلیق کرنے، ضخیم کتابوں کے تراجم کرنے اور تنقیدی مقالے، شرحیں، تجزیے، تحقیقی جائزے تصنیف کرنے کی صلاحیت، آدمی کو ورطہ حیرت میں نہیں ڈالتی۔

اس پر بھی اب کوئی حیرانی نہیں ہوتی کہ جنریٹو مصنوعی ذہانت، ایک نئی بائبل، فلسفے کی ایک نئی، کسی علم کا ایک نیا نصاب تک لکھ سکتی ہے۔

ہمیں اس بات پر اچنبھا نہیں ہوتا کہ ہم صدیوں پہلے کے مشاہیر کو اپنی تحریریں پڑھتے اوران کی وضاحت کرتے دیکھ سکتے ہیں۔

یہ امر بھی کوئی حیرت نہیں جگاتا کہ وہ آپ کے بارے میں، آپ سے زیادہ جانتی ہے۔ آپ کی یادداشت میں سو سو رخنے ہیں، مگر نہ صرف اس کی یادداشت (دراصل ڈیٹا) غیر معمولی ہے، بلکہ اسے منتشر ڈیٹا کو منظم کرنے پر بے مثال دست رس حاصل ہے۔

سوشل میڈیا پر اکثر لوگوں کی تحریریں اور غضب یہ کہ ان پر تبصرے (کمنٹس) بھی مصنوعی ذہانت کا کرشمہ ہیں۔ اگر اس پر حیرت، بلکہ تشویش کا خاتمہ ہوا تو یہ المیہ ہوگا۔

مصنوعی ذہانت کے عجائبات کا معمول بننا، ایک معمولی بات نہیں ہے۔ معمول کا درجہ اختیار کرنے کے بعد، چیزیں اپنی انفرادیت وتازگی ہی نہیں، اپنی سچائی بھی کھودیا کرتی ہیں۔

معمول، چیزوں کے جمال یا قبح کو گہنا دیتا ہے، ان کی دھار کند کردیا کرتا ہے۔ معمول، ایک ماسک بھی بن جایا کرتا ہے، جس کے نیچے چیزوں کی ہیبت، خطرناکی، تضادات، یہاں تک کہ مضرات چھپ جایا کرتے ہیں۔

معمول کا سب سے کاری وار حیرت واضطراب وتشویش کے بعد، سوال کرنے کی تحریک پر ہوا کرتا ہے۔

معمول خود ایک گہرا نفسیاتی جبر بن جایا کرتا ہے۔ نفسیاتی جبر کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ دنیا کو دیکھنے کی ہماری نظر کا حصہ بن جایا کرتا ہے۔

یعنی محسوس ہی نہیں ہوتا کہ ہم کسی جبر کا شکار ہیں۔ اگر کبھی جبر کی کوئی نوک چبھتی محسوس کریں بھی تو اسے........

© Daily Urdu