menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Muhabbat Mein Be Awaz Zulm

13 4
26.01.2026

جب کسی دل میں محبت جنم لے اور زبان اس کے اظہار سے قاصر رہ جائے تو تکلیف محبت کی شدت نہیں ہوتی بلکہ اپنی ہی ذات سے پیدا ہونے والا خوف، احساسِ کمتری اور ممکنہ ردِّعمل کا اندیشہ ہوتا ہے۔ تعلیم، رینک، رتبہ اور خوبصورتی جیسے عوامل دراصل باہر کی دنیا کے پیمانے ہیں۔ انسان لاشعوری طور پر خود کو دوسروں کے ترازو میں تولنے لگتا ہے اور خود سے سوال کرتا ہے کہ میں اس کے قابل ہوں یا نہیں؟ دل میں سب سے پہلے دیوار یہی سوال کھڑی کرتا ہے۔ احساسِ کہتری یا کمتری محض غربت، رنگ، قد کاٹھ، ذات پات، فرقہ، یا جسمانی خامی سے نہیں بنتا بلکہ اس سوچ سے پیدا ہوتا ہے کہ میری کمی مجھے نا قابلِ قبول بنا دے گی۔

ماہرین نفسیات اس بات پر متفق ہیں کہ احساسِ کہتری انسان کی فطری کیفیت ہے۔ لیکن جب یہ احساس حد سے بڑھ جائے تو انسان کی شخصیت کو مفلوج کر دیتا ہے۔ وہ خواہش رکھتے ہوئے بھی قدم نہیں اٹھا پاتا کیونکہ رد ہونے کا خوف، دھتکارے جانے کا ڈر، مذاق بننے کا اندیشہ اور اپنی عزتِ نفس کے ٹوٹنے کا خدشہ اس پر حاوی ہو جاتا ہے۔ بقول شاعر:

جانے کیا سوچ کے ہر راہ میں رُک جاتا ہوں
اُس سے ملنے کا کسی موڑ پہ امکاں بھی نہیں

سانولہ یا کالا رنگ یا کوئی چھوٹی یا بڑی جسمانی خامی اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ معاشرے کا عمومی رویہ، ترحم بھری نظریں، اوور پروٹییکشن یا غیر ضروری ہمدردی انسان کے اندر یہ یقین بٹھا دیتی ہے کہ محبت شاید صرف "مکمل جسم" والوں کا حق ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ محبت جسم........

© Daily Urdu