menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ehsaan Aur Insan

12 0
previous day

"جس پہ احسان کرو، اس کے شر سے بچو"۔ حضرت امام علی سے منسوب یہ قول گزشتہ روز مجھے واٹس ایپ میسج میں ملا۔ میں نے اس قول کو متعدد دفعہ پڑھا مگر اسکے مفہوم و معنی و مقاصد سمجھنے میں مشکل پیش آئی۔ وجہ یہ کہ اس سے بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے احسان کرنا دشمن بنانا کے مترادف ہے۔ دوسری طرف احسان کرنا بھلائی، خلوص، محبت اور انسان دوستی کے زمرے میں آتا ہے۔ کسی کی مشکل آسان کرنا انسانیت ہے، پھر یہ کیسی نصیحت ہے کہ جس شخص پر احسان کرو، اسی کے شر سے بھی بچو؟

میرے عملی مشاہدے اور تجربے میں بارہا یہ بات آئی ہے کہ آپ کسی کے ساتھ خلوص برتیں، کسی کی مدد کریں، کسی کا کام کر دیں، کسی کا مسئلہ حل کر دیں یا مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیں، تو اکثر اوقات بعد میں اسی شخص کی طرف سے پریشانی، شرمندگی یا نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جس کے لیے آپ نے آسانی پیدا کی، وہی کسی وقت پر آپ کے لیے مشکل پیدا کر دیتا ہے۔ جس کے ساتھ آپ نے مخلصانہ رویہ اختیار کیا، وہی کبھی آپ کے خلوص کو کمزوری سمجھ لیتا ہے۔

اسی تناظر میں یہاں میں ایک واقعہ لکھنا چاہوں گا۔ ہمارے دفتر میں ایک شخص بیس سال سے آرڈر پر ہوٹل سے چائے لا رہا ہے۔ ایک دفعہ باتوں ہی باتوں میں مجھے اس نے بتایا کہ اس کی سات بیٹیاں ہیں جن میں چار شادی کی عمر کو پہنچ گئی ہیں مگر غربت کی وجہ سے رکاوٹ پیش آ رہی ہے اور مجھے کچھ مدد کرنے کا کہا۔ میں نے برطانیہ میں بلسفل ھینڈز آرگنائزیشن کو مدد کا فارم بھیجا اور........

© Daily Urdu