Tail Ke 2 Tajiron Ki Larai
تیل کے دوتاجروں کی لڑائی
میں ہرگز انکار نہیں کرتا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا نظر آنے والا بڑا پہلو نظریاتی ہے اور یہ بھی کہ ایران اسرائیل کا دشمن ملک ہے مگر یہ دلچسپ تضاد ہے کہ ہمیں اسلامی ریاستوں میں ترکی کے بعد سب سے زیادہ یہودی ایران میں ہی ملتے ہیں، ترکی میں چودہ پندرہ ہزار کے لگ بھگ اور ایران میں نو سے دس ہزار کے قریب، بعض حوالے کہتے ہیں کہ ایران میں موجود یہودیوں کی تعداد ترکی کے برابر ہی ہے مگر یہ حوالے زیادہ معتبر نہیں۔
مجھے ایران کی طرف سے اسرائیل پر کیے گئے حملوں پر بھی کوئی شک نہیں ہے کہ یہ جینوئن ہیں بالکل اسی طرح جیسے اسرائیل کے ایران اور لبنان پر حملے۔ ایک مسلمان کے طور پر میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ غزہ کا کسی حد تک بدلہ ہے۔ ہمارے سامنے اسرائیل میں تباہی کی ویڈیوز موجود نہیں ہیں مگر جو چند ایک موجود ہیں وہ تسلی دیتی ہیں کہ خدا موجود ہے، وہ اسرائیلیوں کے ساتھ کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کرا رہا ہے جیسا اسرائیلیوں نے فلسطینیوں کے ساتھ کیا، چاہے اس کا عشر عشیر ہی کیوں نہ ہو۔
مگر امریکہ اور ایران کی جنگ کا ایک پہلو تیل بھی ہے۔ یہ تیل کے دو بڑے تاجروں کی بھی لڑائی ہے جس میں ایران نے تیل کی بیس فیصد سے زائد ترسیل والی آبنائے ہرمز بند کر رکھی ہے جس کے نتیجے میں عربوں کے تیل اور گیس اور فروخت ٹھپ ہو کے رہ گئی ہے مگر اس کے ساتھ ہی حیران کن امر یہ ہے کہ جب دنیا بھر میں تیل اور گیس کا بحران ہے، توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے تو آپس میں لڑتے ہوئے تیل کے ان دونوں تاجروں کی تجارت میں........
