Sohail Bhai Ke Column
آج کل ایک بار پھر سہیل بھائی کے کالموں نے دھوم مچا رکھی ہے، دھڑا دھڑ کاپی پیسٹ اور شیئر ہو رہے ہیں، جی جی، آپ درست سمجھے میں نرم دم گفتگو اور گرم دم جستجو سہیل وڑائچ ہی کی بات کر رہا ہوں جنہوں نے اپنے پروگرام ایک دن جیو کے ساتھ، کو ہی ایک ٹرینڈ نہیں بنایا بلکہ ان کی تحریریں بھی شاہکار ہوتی ہیں۔ میں بہت کم لوگوں کی تحریر سے متاثر ہوتا ہوں خاص طور پر کالم نویسی میں، میرا اپنے ساتھ بھی یہی گلہ رہتا ہے کہ میں اور میرے جیسے بہت سارے دوسرے صحافتی طالب علم، کالم کو کالم بنا کے نہیں لکھتے کوئی تجزیے کو کالم بنا دیتا ہے اور کوئی تبصرے کو۔
کالم کو کالم کے طور پر دیکھنا ہو تو اس میں سب سے بڑا اور پہلا نام (میری نظر میں) بڑے بلکہ ہر طرح بہت بڑے بھائی عطاءالحق قاسمی کا ہے۔ اگر آپ نے صحافت کے کسی طالب علم کو تجزیے، مضمون، تبصرے اور کالم میں فرق بتانا ہو تو انہیں لازمی طور پر روزن دیوار سے، دکھائیں، میرا مطلب ہے پڑھائیں۔ کالم نویسی میں ارشاداحمد حقانی بڑا نام تھے مگر میں نے ان کے کالم کو ہمیشہ تجزیہ سمجھ کر پڑھا۔
عباس اطہر صاحب نے اپنے کالموں کے فقروں میں تندی اور تیزی دی وہ ان کی ادھر تم ادھر ہم، جیسی سرخیوں جیسی تھی۔ کالموں میں خبریں لانے میں جناب حامد میر بہت آگے رہے اور کالموں میں فکشن لانے میں جاوید چوہدری۔ میں اگر سہیل بھائی کے کالموں کو دیکھوں تو یہ کالموں کے بہت سارے مزوں کی کاک ٹیل، ہے۔ مجیب الرحمان شامی صاحب کہتے ہیں کہ وہ صحافی ہی کیا جو بات کہے اور پکڑا جائے اور میں سمجھتا ہوں اس تعریف پرسہیل........
