Operation Sindoor Jari Hai
جب بھارت کے سیاسی اور فوجی عہدیدار کہتے ہیں کہ آپریشن سندور جاری ہے تو کیا یہ سوال منطقی اور جائز نہیں کہ جب طیارے اڑنا اور میزائل گرنا بند ہو گئے تو یہ آپریشن کیسے جاری ہے مگر یہ وہ سچ ہے جو ان کے منہ سے پھسل جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے اسی سے نوے ارب ڈالر کے خطیر جنگی جنونی بجٹ کو دہشتگردی، تخریب کاری اور سیاسی عدم استحکام کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ اتنا بڑا بجٹ ہے کہ اس کو دیکھ کے بہت ساروں کے منہ میں پانی آجاتا ہے اور وہ اپنی ماں جیسی مہربان دھرتی سے غداری پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔
مجھے یہ بتانے میں عار نہیں کہ یہ بجٹ دو طرح سے استعمال کیا جا رہا ہے، دشمن ایک لڑائی دھماکے اور قتل و غارت کرتے جنگجوؤں کے ذریعے لڑ رہا ہے اور دوسری نظریے اور یکجہتی پر حملہ آور سائبر وار ہے۔ دشمن کو اس میں بھی ہماری سرحدوں کے اندر سے اور سمندر پار کے ملکوں سے وارئیر مل رہے ہیں۔ جب کچھ لوگ اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے ساتھ ساتھ اس وقت آزاد کشمیر میں بھی آ گ لگائی جار ہی ہے تو بنیادی طور پر یہ بھارتیوں کے اس بیان کا تسلسل اوراس کا عملی ثبوت ہی ہوتا ہے کہ وہ آپریشن سندور جاری ہے جس میں انہوں نے دھول چاٹی تھی۔
ہمارے گھُس بیٹھئے اسے ریاست کی ناکامی کہتے ہیں کہ حالات کنٹرول نہیں ہو پا رہے اور میں اسے دشمن کا آخری وار سمجھتا ہوں۔ وہ دشمن جس نے گذشتہ برس بائیس اپریل کو پہلگام کافالس فلیگ کیا جس کے ایک سے زیادہ مقاصد تھے، پہلا یہ کہ نفرت، تعصب اور انتہاپسندی کے نعروں میں بہار کا الیکشن جیتا جائے اور........
