KPK Mein Emergency
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی
سوال یہ ہے کہ کیا خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج صرف اس مفروضے پر نہ لگایا جائے کہ اس سے پی ٹی آئی کو فائدہ ہوگا، وہ سیاسی شہید بن کے سامنے آئے گی اور میرا کہناہے کہ تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے سے اسے فائدے سے کہیں زیادہ نقصان ہوگا او ر اس غلطی کا ازالہ ہوجائے گا جو آج سے تیرہ برس پہلے اس جماعت کی واضح اکثریت نہ ہونے کے باوجود اسے حکومت دے کر کی گئی تھی۔ حکومتیں سیاسی جماعتوں کی مضبوطی کاباعث بنتی ہیں، ان کے رہنما ان کے ذریعے لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑتے ہیں، اپنے حلقے بناتے ہیں۔ سیاست بہت پیچیدہ کھیل ہے اور اسے محض بڑھک بازی کے ذریعے آسان نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس میں قبولیت اورمقبولیت میں ایک توازن رکھنا پڑتا ہے اورجو اس توازن کو برقرار نہیں رکھ سکتا وہ حکومت کے آسمانی جھولے سے گر جاتاہے۔
میری خیبرپختونخوا کے صحافیوں، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کے رہنمائوں سے گپ شپ ہو رہی تھی۔ مجھے پشاور پریس کلب کے سابق صدر بتا رہے تھے کہ پی ٹی آئی کی ستائیس ستمبر کو لانگ مارچ کے حوالے سے کوئی تیار ی نہیں تھی۔ احتجاج میں فساد اور تصادم کا بہت زیادہ خطرہ تھا لہٰذا ٹرانسپورٹروں نے گاڑیاں دینے سے صاف انکار کر دیا تھا اور ظاہر ہے کہ لانگ مارچ کے شرکائی پیدل تو سینکڑوں کلومیٹر دور اسلام آباد نہیں پہنچ سکتے تھے۔ دوسری طرف دعویٰ تھا کہ چالیس لاکھ لوگوں کو اسلام آباد لے جایا جائے گا اور میں یہ کہوں کہ اس دعوے کا صرف ایک فیصد بھی اکٹھا کر لیتے یعنی چالیس ہزار تو ان کے لئے بھی کھانے پینے کاکوئی انتظام نہیں تھا۔
جب سے........
