Iran Mazloom Hai?
ایران اس حد تک مظلوم ہے کہ اس پر بغیر کسی قانونی، سیاسی اور اخلاقی جواز کے حملہ کیا گیا، جی ہاں، جس وقت امریکہ ایران مذاکرات جاری تھے ان کے درمیان اسرائیل کے اکسانے پر صدر ٹرمپ نے اٹھائیس فروری کو ایسا حملہ کیا جس میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت چالیس اہم ترین رہنما شہید ہوگئے۔ یہ ایران کی جغرافیائی آزادی اور قومی خود مختاری کی نفی تھی۔ ہمیں ایک غیرجانبدار مبصر اور تجزیہ کا ر کے طور پر امریکہ کی ایران کے جوہری پروگرام پر تھانے داری بھی قبول نہیں ہے۔
مجھے یہ کہنے میں بھی عار نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں ایران کے ساتھ موجود معاہدے کو ختم کرکے بھی ایک بڑی غلطی کی جو ان کی پیش رو حکومت نے کیا تھا، اس معاہدے کے خاتمے کے بعد ایران کو حق حاصل ہوگیا کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھائے۔ ہم یہ بنیادی سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ اگر امریکہ مشرق وسطیٰ کی ریاستوں کے جوہری پروگرام پر تھانے دار ہے تو اسے ایران سے پہلے اسرائیل پر حملہ کرنا چاہئے کیونکہ اب تک کی رپورٹس کے مطابق ایران نے یورینیم کی صرف ساٹھ فیصد تک افزودگی کی ہے جبکہ اسرائیل کے پاس تین سو تک ایٹمی وار ہیڈز موجود ہونے کی اطلاعات موجود ہیں۔ ہم ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو غیر قانونی طور پر قائم اسرائیل کی فوجی طاقت سے موازنہ کئے بغیر درست یا غلط قرار نہیں دے سکتے۔ ایران کو تمام بین الاقوامی اصولوں کے مطابق اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور اس دفاع کے لئے طاقت کے حصول کا بھی۔
مجھے آگے بڑھتے ہوئے اپنے پہلے سے بیان کئے گئے تجزئیے کے اہم نکات بھی دہرانے ہیں کہ امریکہ اپنی تمام تر فوجی........
