menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Civil Military Relationship

22 0
12.07.2026

حکومت اور فوج کے تعلقات، پاکستان جیسے سٹریٹیجک اہمیت کے ملک میں، ہمیشہ پولیٹیکل سائنس کا اہم ترین موضوع رہے ہیں مگر ان کی تشریح ہمیشہ سیاسی مفادات کو سامنے رکھ کے کی گئی ہے۔ ہر وہ سیاسی جماعت جو فوج کی گڈ بُکس سے باہر نکل جاتی ہے وہ کسی دوسری سیاسی جماعت کے اس ادارے سے اچھے تعلقات کو منفی انداز میں پیش کرتی ہے حالانکہ یہ تعلقات آئین ہی نہیں تعمیر و ترقی اور استحکام کا تقاضا بھی ہیں۔

پاکستان کی پوری تاریخ سیاسی حکومتوں کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اچھے تعلقات نہ ہونے کی قیمت ادا کرنے کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ بہت سارے لوگ سٹیٹ کے سسٹم میں فوج کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر وہ فراموش کرجاتے ہیں کہ پاکستان کی جیو سٹریٹیجک اہمیت اس کے چین، افغانستان، ایران اور ہندوستان کے ہمسایہ ہونے کی وجہ سے ہے۔

میں نے جب سے عملی صحافت شروع کی تو میاں نوازشریف کو فوج کے ساتھ اچھے تعلقات نہ ہونے کی قیمت ادا کرتے دیکھا۔ جب ان کے دور میں اٹل بہاری واجپائی بس پر بیٹھ کر پاکستان آئے تو میں اس وقت بھی ایک قومی اخبار کے چیف رپورٹر کے طور پر مینار پاکستان پر موجود تھا مگر جنوبی ایشیا کی تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی موو اس لئے ناکام ہوگئی کہ اس وقت کی فوج اور حکومت کے تعلقات اچھے نہیں تھے اور یہی وجہ ہے کہ جب اٹل بہاری واجپائی مینار پاکستان پر حاضری دے اورگورنر ہاوس لاہور میں اعلان لاہور پر دستخط کر رہے تھے تو عین اسی وقت پرویز مشرف پاکستانی فوج کارگل کے محاذ پر اتار رہے تھے۔

میں میاں نواز شریف کو پاکستان کی تعمیر و ترقی کا نقیب سمجھتا ہوں اور یہ بھی کہ........

© Daily Urdu