Samundari Nemat Se Mustafeed Hone Ki Zaroorat
سمندری نعمت سے مستفید ہونے کی ضرورت
کراچی، جو پاکستان کا سب سے بڑا معاشی شاہراہ اور کروڑوں انسانوں کا مسکن ہے، ایک ایسا بدقسمت شہر ہے جو دنیا کے بڑے سمندروں میں سے ایک کے ساحل پر واقع ہونے کے باوجود سالہا سال سے پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر یہ وسیع و عریض سمندر کسی دوسرے باشعور یا ترقی یافتہ ملک کے پاس ہوتا، تو وہ نہ صرف اپنی تمام تر شہری اور صنعتی ضروریات پوری کرتا بلکہ اپنے ہمسایہ ممالک کو بھی میٹھا پانی سپلائی کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا۔ لیکن ہماری بدقسمتی یہ رہی ہے کہ پاکستان کے سب سے اہم اور معاشی حب میں اتنا بڑا سمندری ذخیرہ موجود ہونے کے باوجود یہاں کے شہری روزمرہ کی بنیادی ضرورت، یعنی پانی کی ایک ایک بوند کو ترستے نظر آتے ہیں۔
اگر ماضی کے اوراق الٹ کر دیکھے جائیں تو کراچی میں سمندری پانی کو میٹھا بنانے کی کوششیں کوئی پہلی بار نہیں ہو رہیں۔ ماضی میں بھی ڈی ایچ اے میں ایک بڑا پلانٹ لگایا گیا، مگر وہ عدم توجہی، ناقص منصوبہ بندی اور تکنیکی نقائص کی وجہ سے جلد ہی ناکامی کا شکار ہو کر بند ہوگیا۔ اس کے بعد بھی مختلف ادوار میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ درجنوں معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں سائن کی گئیں، مگر افسوس کہ وہ تمام تر اعلانات صرف فائلوں، اخباری بیان بازیوں اور دفتری میزوں تک ہی محدود رہے اور عمل درآمد کی صورت میں عوام کو کوئی حقیقی ریلیف نہ مل سکا۔
اس پس منظر........
