Kuwan Pyase Ki Talash Mein
کنواں پیاسے کی تلاش میں، یہ فقرہ اب محاورہ نہیں رہا، بلکہ ہمارے قومی مزاج کی مکمل تشریح بن چکا ہے۔ کبھی کہا جاتا تھا کہ پیاسا کنویں تک جاتا ہے، آج صورتحال یہ ہے کہ کنواں جوتیاں پہن کر، فائل بغل میں دبائے، آن لائن لنک بنا کر، پیاسے کے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور پیاسا اندر سے آواز دیتا ہے: "ابھی موڈ نہیں، ذرا نیٹ سست ہے، کل دیکھتے ہیں"۔
ہم شاید دنیا کی واحد قوم ہیں جو تعلیم کو اپنی ناکامی کی جڑ سمجھتی ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اگر ہم واقعی پڑھ لکھ گئے تو ہمیں اپنے مسائل خود حل کرنا پڑیں گے اور یہ مشقت ہمیں منظور نہیں۔ ہم نعروں، الزام تراشی اور وقتی جذباتی تقاریر پر گزارا کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی اسکول بند ہونے کا اعلان ہوتا ہے، بچوں کے ساتھ ساتھ والدین کے چہرے بھی کھل اٹھتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ کوئی جیل بند ہوگئی ہو۔ سردیوں کی چھٹیوں کے نام پر کہا گیا کہ بچوں کو گھروں میں رکھیں، سردی بہت ہے، حکومت کو بچوں کی بڑی فکر ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کتابیں الماریوں میں قید ہوگئیں اور بچے مری، سوات اور کالام میں برف کے گولے بناتے نظر آئے۔ جب اسکول کھلنے کا وقت آیا تو یک دم احساس ہوا کہ ابھی تو سردی ہے، بچوں پر ظلم کیوں کیا جا رہا ہے۔
یہ کوئی صدیوں........
