T20 World Cup 2026
1979ء کے آخر میں جب سوویت یونین نے افغانستان میں اپنی فوجیں اتاریں تو دنیا نے صرف ایک جنگ نہیں دیکھی، دنیا نے کھیل کو بھی سیاست کے ہاتھوں یرغمال ہوتے دیکھا۔ 1980ء کے ماسکو اولمپکس میں امریکا سمیت درجنوں ممالک نے شرکت سے انکار کر دیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف اولمپکس کی روح کو زخمی کیا بلکہ یہ واضح پیغام بھی دیا کہ جب ریاستیں آمنے سامنے آجائیں تو اسٹیڈیم بھی محفوظ نہیں رہتے۔ چالیس سال بعد تاریخ ایک بار پھر ہمیں یہی سبق یاد دلا رہی ہے اور اس بار منظرنامہ کرکٹ کا ہے اور کردار پاکستان اور بھارت ہیں۔
پاکستان نے ورلڈ کپ کا بائیکاٹ نہیں کیا، پاکستان نے کرکٹ سے کنارہ کشی نہیں کی اور پاکستان نے یہ اعلان بھی نہیں کیا کہ وہ عالمی کھیلوں کے نظام کو چیلنج کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان نے صرف ایک بات کہی ہے: ہم ورلڈ کپ کھیلیں گے، لیکن بھارت کے ساتھ میچ نہیں کھیلیں گے۔ یہ ایک سادہ سا جملہ ہے، مگر اس کے پیچھے کہانی بہت طویل، بہت پیچیدہ اور بہت تلخ ہے۔
یہ کہانی آج یا کل کی نہیں۔ یہ اُس دن سے شروع ہوئی جب بھارت نے چیمپئنز ٹرافی پاکستان میں کھیلنے سے انکار کر دیا۔ وجہ وہی پرانی، گھسی پٹی اور آزمودہ، سیکیورٹی خدشات۔ پاکستان نے یقین دہانیاں کرائیں، آئی سی سی نے انتظامات کی تصدیق کی، مگر بھارت ٹس سے مس نہ ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک عالمی ٹورنامنٹ کے میچز پاکستان سے نکل کر دبئی اور شارجہ منتقل ہو گئے۔ یوں کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار........
