menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Maut Ki Dastak

20 0
wednesday

مورخین لکھتے ہیں کہ جب سکندر اعظم دنیا فتح کرتے کرتے بابل پہنچا تو اس کی عمر صرف بتیس برس تھی۔ اس نے یونان سے ہندوستان تک ایک ایسی سلطنت قائم کر لی تھی جس کا تصور بھی اس دور میں محال تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ دنیا میں کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی، مگر پھر ایک معمولی سا بخار اس کے جسم میں اترا اور چند دنوں میں وہی سکندر، جس کے نام سے سلطنتیں کانپتی تھیں، موت کے بستر پر لیٹا تھا۔

روایت ہے کہ مرتے وقت اس نے وصیت کی کہ جب میرا جنازہ اٹھایا جائے تو میرے دونوں ہاتھ کفن سے باہر نکال دینا تاکہ دنیا دیکھ لے کہ جس شخص نے آدھی دنیا فتح کی، وہ بھی خالی ہاتھ جا رہا ہے۔

یہ روایت تاریخی اعتبار سے کتنی درست ہے، اس پر اختلاف ہو سکتا ہے، مگر اس کا پیغام کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ انسان ساری زندگی جمع کرتا رہتا ہے، لیکن آخر میں اس کے حصے میں صرف چند گز کفن اور مٹھی بھر مٹی آتی ہے۔ شاید اسی لیے قرآن کریم بار بار انسان کو اس کی حقیقت یاد دلاتا ہے کہ ہر ذی روح نے موت کا مزہ چکھنا ہے اور دنیا کی ہر رونق ایک دن ختم ہو جانی ہے۔

چند روز پہلے مجھے بھی اسی حقیقت نے ایک ایسے انداز میں جھنجھوڑا کہ میں کئی گھنٹے خاموش بیٹھا رہا۔

میں گھر میں اپنے والد مرحوم محمد عاشق شہزاد کی ایک تصویر تلاش کر رہا تھا۔ یہی تصویر کبھی ہمارے ڈرائنگ روم کی دیوار پر بڑے اہتمام سے آویزاں تھی۔ گھر میں آنے والا ہر مہمان اسے دیکھتا، کچھ دیر رکتا اور پھر والد صاحب کو یاد کرتے ہوئے کوئی نہ کوئی بات ضرور کرتا۔ گزشتہ سال گھر کی مرمت کے دوران وہ فریم خراب ہوگیا۔ نجانے کیوں اس دن دل چاہا کہ اسے دوبارہ ڈھونڈا جائے، نیا فریم بنوایا جائے اور وہ تصویر پھر اسی دیوار پر آویزاں کر دی جائے۔

تصویر تلاش کرتے کرتے میری نظر ایک الماری میں رکھی پرانی وی سی آر کی کیسٹوں پر پڑی۔ ایک لمحے کے لیے یوں محسوس ہوا جیسے وقت نے اچانک تیس پینتیس سال پیچھے دھکیل دیا ہو۔ وہ زمانہ جب موبائل فون نہیں تھے، ہر ہاتھ میں کیمرہ نہیں ہوتا تھا اور یادیں کلاؤڈ میں نہیں بلکہ وی سی آر کی پلاسٹک کی کیسٹوں میں قید ہوتی تھیں۔

مجھے یاد آیا کہ کئی سال پہلے میں نے ان میں سے ایک کیسٹ کمپیوٹر میں منتقل کروا لی تھی۔ سوچا، ذرا دیکھتا ہوں۔

کمپیوٹر آن کیا، ویڈیو چلائی اور چند لمحوں میں ماضی میرے سامنے زندہ کھڑا تھا۔

وہ والد صاحب کے الیکشن کی ویڈیو تھی جب وہ چئیرمن منتخب ہوئے تھے۔ کوئی ان سے ہاتھ ملا رہا تھا، کوئی ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بات کر رہا تھا، کوئی مسکرا رہا تھا، کوئی نعرہ لگا رہا تھا۔ چہروں پر امید تھی، آنکھوں میں خواب تھے اور ہر شخص کو یقین تھا کہ زندگی ابھی بہت لمبی ہے۔

میں خاموشی سے اسکرین کو دیکھتا رہا۔

پھر اچانک ایک ایسا خیال آیا جس........

© Daily Urdu