menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ittehad Ka Khwab

26 0
05.04.2026

کسی نے ایک بار ایک سینئر بیوروکریٹ سے پوچھا، "بھٹو آخر تھا کیا؟" وہ مسکرایا اور بولا، "بھٹو ایک ذہن تھا، ایسا ذہن جو کمرے میں داخل ہوتا تھا تو باقی سب دماغ چھوٹے پڑ جاتے تھے"۔ پھر اس نے ایک واقعہ سنایا۔ ایک بین الاقوامی اجلاس میں ایک مغربی سفارتکار نے طنز کیا، "آپ لوگ ابھی سیاست سیکھ رہے ہیں"۔ بھٹو نے جواب دیا، "ہم سیکھ رہے ہیں، مگر یاد رکھیں ہم وہ قوم ہیں جو سیکھتے سیکھتے تاریخ بدل دیتی ہے"۔ کمرہ خاموش ہوگیا۔ یہ بھٹو تھا۔

دوسرا واقعہ اسلامی سربراہی کانفرنس سے پہلے کا ہے۔ ایک عرب لیڈر نے کہا، "مسلم دنیا کبھی متحد نہیں ہو سکتی"۔ بھٹو نے جواب دیا، "آپ سب کو لاہور لے آئیں، تاریخ خود لکھ جائے گی" اور پھر واقعی تاریخ لکھی گئی۔

کل 4 اپریل تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی 47ویں برسی۔ لیکن سچ یہ ہے کہ بھٹو صرف ایک شخصیت نہیں، ایک معیار ہے۔ آج جب امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے، بھٹو کی باتیں ماضی نہیں لگتیں، بلکہ آج کی خبر لگتی ہیں۔

بھٹو نے بہت پہلے خبردار کیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کریں گے اور اگر مسلم دنیا متحد نہ ہوئی تو یہ خطہ مسلسل جنگوں کا شکار رہے گا۔ آج ایران اور امریکہ کا تناؤ، اسرائیل اور فلسطین کا مسئلہ اور پورے خطے کی بے چینی اسی حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں۔

1974ء میں لاہور کی اسلامی سربراہی کانفرنس بھٹو کا شاہکار تھی۔ شاہ فیصل، معمر قذافی، انور سادات، سویکارنو جیسے رہنما ایک جگہ جمع ہوئے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب مسلم دنیا نے خود کو ایک طاقت کے طور پر دیکھا۔ چند دنوں کے........

© Daily Urdu