menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Al Jazair Ke Sahilon Se Istanbul Tak

20 0
28.07.2026

الجزائر کے ساحلوں سے استنبول تک

باہر سمندر کی لہریں قسطنطنیہ کے ساحلوں سے سر ٹکرا رہی ہیں اور ان کی یہ جانی پہچانی آواز میرے دل کی دھڑکنوں کو ایک عجب سکون دے رہی ہے۔ میں اپنے کمرے کی کھڑکی سے اس نیلگوں پانی کو دیکھ رہا ہوں جس پر میں نے اپنی زندگی کے پچاس سے زیادہ سال گزار دیے۔ بوڑھی ہڈیاں، تپتے ہوئے جہازوں کے ڈیک پر مسلسل کھڑے رہنے کی وجہ سے اب جواب دے رہی ہیں اور میری یہ لال داڑھی، جو کبھی میری پہچان تھی، اب وقت کی برف سے سفید ہو چکی ہے۔

میری میز پر سمندری نقشے، قطب نما اور وہ دور بین پڑی ہے جس سے میں نے افق پر اندھیرے اور طوفانوں کو چیرتے ہوئے عیسائیوں کے جنگی بیڑوں کو ڈھونڈا تھا۔ لوگ مجھے سمندر کا بادشاہ کہتے ہیں، کچھ مجھے قزاق کہتے ہیں اور کچھ خدا کا قہر۔ لیکن اس وقت، جب میری زندگی کا لنگر اٹھنے والا ہے، میرا ذہن استنبول کے اس پرسکون قصر سے دور، بحیرہ روم کی ان بپھری ہوئی لہروں کی طرف جا رہا ہے جہاں دو بھائیوں نے صرف ایک چھوٹی سی کشتی سے دنیا کی عظیم ترین بحری طاقتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔

میری کہانی کا آغاز جزیرہ لزبوس (Lesbos) کی مٹی سے ہوا تھا۔ میں کوئی شاہی امیر نہیں تھا، نہ میرے آباؤ اجداد کے پاس کوئی بڑی جاگیریں تھیں۔ میرے والد یعقوب ایک عثمانی سپاہی تھے جنہوں نے اس جزیرے کی فتح کے بعد یہاں سکونت اختیار کی تھی۔ ہم چار بھائی تھے، اسحاق، عروج، میں اور الیاس۔ سمندر کی وسعتوں اور لہروں کے شور نے بچپن ہی سے ہم سب کو اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔ ہم نے چھوٹی کشتیوں پر تجارت شروع کی، لیکن وہ دور مسلمانوں کے لیے بڑا کٹھن تھا۔ بحیرہ روم عیسائی قزاقوں، خاص طور پر روڈز کے "نائٹس آف سینٹ جان" کے ظلم و ستم سے ابل رہا تھا، جو نہتے مسلم تاجروں کو لوٹتے اور انہیں بدترین غلامی کا نشانہ بناتے تھے۔

ایک دن، ہمارے بھائی عروج اور الیاس پر عیسائی قزاقوں نے حملہ کر دیا۔ اس ہولناک بحری جھڑپ میں الیاس شہید ہوگیا اور عروج کو قیدی بنا کر روڈز کے جزیرے پر غلامی کی زنجیریں پہنا دی گئیں۔ اس واقعے نے میرے اندر کی دنیا کو بدل کر رکھ دیا۔ میرا بھائی عروج، جو اپنی طاقت اور عزم کی وجہ سے بے مثال تھا، تین سال تک عیسائیوں کے جہازوں پر غلام ملاح کے طور پر چپو چلاتا رہا، یہاں تک کہ اللہ نے اسے فرار ہونے کا موقع دیا۔ جب وہ واپس آیا، تو ہماری آنکھوں میں تجارتی منافع کا خواب نہیں، بلکہ عیسائی بحری طاقتوں سے اپنے بھائی کے خون کا بدلہ لینے اور مسلمانوں کے ساحلوں کا دفاع کرنے کا جنون تھا۔

ہم دونوں بھائیوں نے شمالی افریقہ کا رخ کیا اور تونس کے سلطان سے اجازت لے کر حلق الوادی (La Goletta) کی بندرگاہ کو اپنا مرکز بنایا۔ یہ وہ دور تھا جب اندلس (سپین) میں مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ حکومت ختم ہو چکی تھی اور ہسپانوی انکوائزیشن کے جلاد اندلس کے مسلمانوں اور یہودیوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہے تھے۔ غرناطہ کی گلیوں سے مسلمانوں کی چیخیں سمندر پار ہمارے خیموں تک پہنچتی تھیں۔

میں اور میرے بھائی عروج اب محض ملاح نہیں رہے تھے، ہم نے اندلس کے مظلوم مسلمانوں کو بچانے کے لیے اپنی جانیں وقف کر دیں۔ ہم اپنے تیز رفتار جہاز لے کر اندلس کے........

© Daily Urdu