Sultan Rahi Aur Mustafa Qureshi Tax
سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی ٹیکس
پاکستان میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی نہیں بلکہ "مہنگائی پر ٹیکس"ہے۔ یعنی عوام پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہے، اوپر سے حکومت ٹیکسوں کا ایسا مزید بوجھ ڈال رہی ہے جس نے جینا دوبھر کر دیا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں ہونے والی حالیہ گفتگو، جہاں سینیٹر کامل علی آغا نے اپنے 102 یونٹس کے 11 ہزار 800 روپے بجلی کے بل پر کی شکایت کی۔ دراصل ہر پاکستانی گھر کی کہانی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ عام آدمی کے پاس نہ آواز ہے اور نہ پلیٹ فارم۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں بجلی کا بل اب بجلی کا بل نہیں رہا بلکہ "ٹیکس وصولی کا پرچہ" بن چکا ہے۔ اصل یونٹس کی قیمت چند سو یا چند ہزار روپے ہوتی ہے مگر اس کے ساتھ ایسے ایسے ناموں سے ٹیکس اور سرچارجز لگائے جاتے ہیں کہ صارف کو سمجھ ہی نہیں آتا کہ وہ بجلی استعمال کرنے کی قیمت ادا کر رہا ہے یا کسی اور جرم کی سزا۔ محصول بجلی، جنرل سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، فاضل ٹیکس، مزید ٹیکس، آر ایس ٹیکس، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر جنرل سیلز ٹیکس، فیول پرائس پر فاضل ٹیکس، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر مزید ٹیکس، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر ایکسائز ڈیوٹی،........
