E Courts, Daur e Hazir Ki Ashad Zaroorat
ای کورٹس، دورِ حاضر کی اشد ضرورت
پاکستان کے عدالتی نظام میں 20 اپریل 2026 ایک نئی سوچ، ایک نئی جہت اور ایک نئے عزم کی علامت کے طور پر ابھرا ہے۔ یہ وہ دن تھا جب روایتی عدالتی ڈھانچے نے پہلی بار کھل کر جدید ٹیکنالوجی کو گلے لگایا۔ اسلام آباد میں سپریم کورٹ کی کارروائی کے دوران جب ایک غیر متوقع صورتحال کے باعث بینچ کی تشکیل ممکن نہ رہی، تو ماضی کی طرح مقدمات کو ملتوی کرنے کی بجائے ایک مختلف راستہ اختیار کیا گیا۔ سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری سے ویڈیو لنک کے ذریعے جسٹس عائشہ ملک کی شمولیت نے نہ صرف سماعت کو ممکن بنایا بلکہ 28 میں سے 20 مقدمات کے فیصلے بھی سنائے گئے۔ یہ اقدام اس حقیقت کا بظاہر اعلان تھا کہ اب انصاف صرف عدالت کی چار دیواری تک محدود نہیں رہا بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں قدم رکھ چکا ہے۔
پاکستان کا عدالتی نظام طویل عرصے سے تاخیر، پیچیدگی اور فرسودہ طریقہ کار کا شکار رہا ہے۔ ملک بھر میں لاکھوں مقدمات کا زیر التواء ہونا محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ ہے۔ ہر زیر التواء کیس کے پیچھے ایک خاندان کی امیدیں، ایک فرد کی زندگی اور انصاف کی ایک ادھوری کہانی جڑی ہوتی ہے۔ "تاریخ پر تاریخ" کا کلچر عوام کے اعتماد کو کمزور کر چکا ہے اور یہی وہ مقام........
