menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Samaj Aur Behayai

33 0
29.09.2026

شایدآپ اس وقت یہ کالم اپنے موبائل پر پڑھ رہے ہوں، کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ موبائل نے ہماری روزمرہ زندگی، ہمارے وقت اور ہمارے ذوق کو کس قدرمتاثر اور تبدیل کردیا ہے؟ آج سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ دیکھی جانے والی چیزوں میں ریلز شامل ہیں اور ان ریلز کا ایک بڑا حصہ جسم کی نمائش، بے حیائی پر مشتمل مناظر، نجی زندگی کی تشہیر اور گھریلومعاملات کی تفصیلات پر مشتمل ہوتا ہے۔

ہم نے بے حیائی کو باقاعدہ ایک صنعت بنا دیاہے، جوجتنی زیادہ جسم کی نمائش کرتا اور بے حیائی کو فروغ دیتا ہے اسے اتنی زیادہ توجہ، اتنی زیادہ مقبولیت اور آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ یہ بے حیائی آہستہ آہستہ ہماری نگاہ، ہماری گفتگو اور ہمارے معاشرتی ذوق کا باقاعدہ حصہ بن چکی ہے۔ آج کے اس کالم میں ہم بے حیائی زدہ اس سماج کورسول اللہ کی تنبیہات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "بے حیائی جس چیز میں آتی ہے اسے عیب دار بنادیتی ہے اور حیا جس چیز میں آتی ہے اسے عمدہ بنا دیتی ہے"۔

دور جدیدمیں پیرا ڈائم مکمل تبدیل ہو چکا ہے۔ حیاجومردوزن کی فطرت اور پہچان تھی آج محض ایک فرسودہ روایت بن کر رہ گئی ہے۔ بے حیائی جو کبھی باعث شرم وندامت تھی آج اس کو فن، آزادی اظہار اور سوشل میڈیا کے ذریعے کمائی کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے۔ گالی کو"ٹَرینڈ"بنا دیا گیاہے۔ فحش لباس کو "کانفیڈینس" کا استعارہ بنادیا گیا ہے اورفحش اورذو معنی گفتگو کو"کول" کہہ کر جواز بخش دیا گیا ہے۔ دورجدیدمیں........

© Daily Urdu