Molana Allah Wasaya Ki Body Language
مولانا اللہ وسایا کی باڈی لینگوئج
تھامس ایلوا ایڈیسن بیسویں صدی کا حیران کن کردار تھا، وہ بیسویں صدی کا سب سے بڑا مو جد تھا اور اگر آپ بیسویں صدی کو ایڈیسن کی صدی ڈکلیئر کردیں تو شاید یہ غلط نہ ہوگا۔ اس نے اپنی 84سالہ زندگی میں ایک ہزار سے زائد چیزیں ایجاد کیں اور شاید کو ئی دوسرا موجد آج تک اتنی چیزیں ایجاد نہیں کر سکا۔ وہ 1847میں پیدا ہوا اور 1931میں وفات پائی۔ اس کا بچپن بڑا دلچسپ تھا، اسے پڑھنے کا شوق تھا اور نہ ہی وہ سکول جاتا تھا، اس کی والدہ اسے سکول چھوڑ کر آتی تو وہ والدہ سے پہلے گھر پہنچ جاتا تھا۔
ایک دن اس کی والدہ سکول چلی گئی، ایڈیسن کے سر نے والدہ کو بتایا: "یہ بچہ پوری کلاس میں سب سے ذیادہ ذہین ہے۔ یہ جس خود اعتمادی کے ساتھ کلاس میں بیٹھتا ہے، سبق سنانے کے لیے کھڑا ہوتا ہے، سوال کرنے کے لیے انگلی اٹھاتا ہے بے خوفی سے سوال کرتا ہے اور سوال کرنے کے بعد بحث کرتا ہے، یہ جس خود اعتمادی کے ساتھ اپنے دوستوں سے بات کرتا ہے، ٹیچرز کو سلام کرتا ہے، ڈائس پے آتا ہے اور گفتگو کرتا ہے میں اس کی اس باڈی لینگوئج سے متاثر ہوں۔ اس کی باڈی لینگوئج بتاتی ہے یہ غیر معمولی ذہانت کا حامل ہے اور ایک دن یہ بڑا انسان بنے گا"۔
اکیسویں صدی میں باڈی لینگوئج باقاعدہ فن کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور آج بڑ ے بڑے فیصلے صرف باڈی لینگوئج کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ آپ اگرکسی ملٹی نیشنل کمپنی، کسی بینک، میڈیا فرم، بیورو کریسی، رئیل سٹیٹ یا کسی کمرشل ادارے میں جاب کے لیے اپلائی کرتے ہیں تو انٹرویو کے دوران آپ کی تعلیم، تجربے، قابلیت اور صلاحیت سے زیادہ آپ کی پرسنیلٹی اور آپ کی باڈی لینگوئج کو دیکھا........
