Basant: Muslim, Hindu Aur Angrez Musanifeen Ke Hawale Se
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ انسانی تاریخ کے دورِ اوّل سے ہی مذہب کا انسانی معاشرے پر بہت گہرا اثر رہا ہے۔ قدیم انسانی معاشرے میں کسی ایسے تہوار، یا ثقافتی سرگرمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جس کی تائید مذہبی تعلیمات سے نہ ہوتی ہو۔ اقوامِ عالم کے معروف تہوار ایک مخصوص پس منظر رکھتے تھے۔ یہودیوں کا سب سے بڑا تہوار"ھنوکا" ایک مذہبی تہوار تھا۔ عیسائیت جو دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہے، اس میں بھی کرسمس اور ایسٹر مذہبی جوش وخروش سے منائے جاتے ہیں۔
ہندومت میں بھی دیوالی، دسہرا، ہولی، بیساکھی اور بسنت مذہبی جو ش وخروش سے منائے جاتے ہیں۔ دیوالی، دسہرا اور ہولی کے متعلق تو سب جانتے ہیں کہ یہ ہندوؤں کے مذہبی تہوار ہیں مگر بیساکھی اور بسنت کے متعلق یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ یہ موسمی اور ثقافتی تہوار ہیں۔
آج ہم یہ حقیقت واضح کرتے ہیں۔ اسلامی تاریخ کے قابل فخر محقق اور سائنسدان ابوریحان البیرونی تقریباً ایک ہزار سال قبل ہندوستان تشریف لائے تھے۔ انہوں نے کلر کہار کے نزدیک ہندوؤں کی معروف یونیورسٹی میں عرصہ دراز تک قیام کیاتھا، وہیں انہوں نے اپنی شہرئہ آفاق تصنیف کتاب الہند تصنیف کی تھی۔ یہ کتاب آج بھی ہندوستان کی تاریخ کے ضمن میں ایک مستند حوالہ سمجھی جاتی ہے۔ اس کتاب کے باب نمبر 76 میں انہوں نے عیدین اور خوشی کے دن کے تحت ہندوستان میں منائے جانے والے مختلف مذہبی تہواروں کا ذکر کیا ہے۔
اس میں عید "بسنت" کا ذکر کرتے ہوئے البیرونی لکھتے ہیں: "اسی مہینہ میں استوائے ربیعی ہوتا ہے جس کا نام بسنت ہے، اس دن لوگ عید مناتے ہیں، برہمنوں کو کھاناکھلاتے ہیں اور دیوتاؤں کے نام نذر یں چڑھاتے ہیں۔ " اس مستند تاریخی حوالے سے معلوم ہوتا ہے کہ بسنت ہندوؤں کا ایک خالص مذہبی تہوار ہے اور اس کا کسی موسم یا ثقافت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ماضی قریب میں اس کا دوبارہ احیا کیسے اور کس........
