menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pakistan Se Mass Migration

19 0
17.05.2026

پاکستان سے ماس مائیگریشن

یہ آٹھ فروری دو ہزار بیس کی ایک سرد صبح تھی۔ روٹر ڈیم کے اسٹوڈنٹ ہاسٹل کی تیسری منزل پر واقع اپنے کمرے کی کھڑکی سے جب میں نے پردہ ہٹایا تو باہر گھپ اندھیرا تھا۔ رات جیسے ابھی پوری طرح ختم ہی نہ ہوئی تھی، تارے ٹمٹما رہے تھے، لیکن نیچے سڑک پر ٹریفک کا سیلِ رواں جاری تھا۔ فٹ پاتھ پر قطار در قطار سائیکل سوار رواں تھے، کیونکہ نیدرلینڈز میں سائیکلیں زندگی کا حصہ ہیں۔

تھوڑی تھوڑی دیر بعد ٹرام گزرتی، دور تک گاڑیوں کی روشنیاں سڑکوں پر تیرتی محسوس ہوتیں اور میں حیران کھڑا سوچتا رہ گیا کہ اتنی سخت سردی اور اتنے اندھیرے میں یہ لوگ آخر کہاں جا رہے ہیں۔ میرے تصور میں بھی نہ تھا کہ یورپ کی صبحیں اتنی پہلے جاگ جاتی ہیں۔ لوگ اس لیے اندھیرے میں گھروں سے نکلتے ہیں تاکہ سات بجے دفاتر کھلنے سے پہلے اپنے اپنے کام کی جگہ پہنچ سکیں۔ دفاتر ہوں، اسکول ہوں، کالجز ہوں، یونیورسٹیاں ہوں یا دکانیں، پانچ منٹ کی تاخیر بھی یہاں معیوب سمجھی جاتی ہے۔

مجھے بھی یونیورسٹی جانا ہوتا تھا، مگر پوری کوشش کے باوجود میں صرف تین دن ہی صبح سات بجے تک باقاعدگی سے یونیورسٹی پہنچ سکا۔ اس کے بعد میری ازلی غفلت، سستی اور تساہل غالب آ گئے اور میرا پہلا پیریڈ مستقل طور پر مس ہونے لگا۔ کورس مکمل ہونے تک شاید ہی کوئی دن ایسا آیا ہو جب میں پہلا لیکچر وقت پر لے پایا ہوں۔ میری یونیورسٹی روٹرڈیم سے تقریباً پینتالیس منٹ کی مسافت پر تھی اور مجھے روزانہ ڈچ سپورویگن ریلوے کی ٹرین میں سفر کرنا پڑتا تھا۔ یہی طرزِ زندگی میں نے یورپ کے مختلف شہروں میں بارہا دیکھا۔ ٹرامیں، ٹرینیں، انڈرگراؤنڈ اسٹیشن، یونیورسٹیاں، دفاتر، ہر جگہ لوگ وقت کے تعاقب........

© Daily Urdu