menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kohsar University Pe Akhri Mazmoon

21 0
07.05.2026

کوہسار یونیورسٹی پہ آخری مضمون

اہلیان مری سے شکوہ ہے، یونیورسٹی پہ میرا یہ تیسرا اور آخری مضمون ہے۔ میں مایوس ہوں۔ یونورسٹیوں کی رینکنگ میں عالمی دوڑ میں کہیں میلوں دور کھڑی اپنے مری کی ننھی منی، نوزائیدہ جامعہ کوہسار پہ پیار بھی آتا ہے اور ترس بھی۔ مجھے 84 سالہ دادا یاد آتا ہے، جو اپنے ننھے منے نوزائیدہ پوتے کو پیدا ہوتے دیکھتا ہے، اس کی درازی عمر، صحت سلامتی اور ترقی کے لئے دعا کرتا ہے، وہ جانتا ہے یہ کمزور بچہ ابھی تو چھوٹا ہے، مگر وہ اس کی میراث اور نسل کے تسلسل کا ضامن ہوگا۔

پھر دنیا کی اعلیٰ جامعات کی درجہ بندی (QS Ranking) میں مجھے پاکستان کی یونیورسٹیاں بھی دادے اور پوتے کی مانند نظر آتی ہیں۔ یہ رینکنگ ایک علمی آئینہ ہے اور اس آئینے میں اپنا چہرہ دیکھیں تو حقیقت تلخ سہی، مگر نظر آتی ضرور ہے۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دنیا کی پہلی پانچ سو یونیورسٹیوں میں پاکستان کی صرف تین جامعات نسٹ (334)، قائداعظم (378) اور پیاس (398) ہے، جبکہ مشہور زمانہ لمز 651 نمبر پہ ہے۔ عالمی رینکنگ میں تاہم نمبر ون پہ امریکہ کی ایم آئی ٹی، دوسرے نمبر پہ امپیریل کالج آف لندن اور تیسرے پہ سٹینفورڈ یونیورسٹی ہے۔ اس رینکنگ کی بنیاد تین عناصر پہ ہوتی ہے، موئثر ترین ریسرچ، تعلیمی استعداد اور عالمی منڈی میں ملازمت کے مواقع۔

مزید کم مائیگی کا احساس ہوا جب دیکھا، پہلی پانچ سو میں امریکہ کی تقریباً 110 یونیورسٹیاں، چین کی 35 کے قریب اور برطانیہ و دیگر مغربی ممالک کی بیسیوں درجنوں جامعات اس فہرست میں جگہ بناتی ہیں۔ یہ فرق صرف نمبروں کا نہیں یہ وژن، قیادت، پالیسی، سرمایہ کاری اور ترجیحات کا فرق ہے۔

مری میں یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ دیرینہ تھا۔ مئی 2015 میں جب شاہد خاقان وزارتِ پیٹرولیم کے مرتبے پہ فائز تھے، انھوں نے اس وقت کے پنجاب یونیورسٹی کے........

© Daily Urdu