Sabar (2)
حضور اکرم ﷺنے بھی اپنے متعدد ارشادات میں صبر کی اہمیت و فضیلت کو واضح کیا فرمایا۔ حضرت سعدؓ روایت کرتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ سخت ازمائش کن کی ہوتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا انبیاءؑ پھر درجہ بدرجہ اللہ تعالیٰ کے مقربین کی۔ آدمی کی ازمائش اس کے دینی مقام ومرتبہ (ایمانی حالت) کے مطابق ہوتی ہے اگر وہ دین اور ایمان میں مضبوط ہو تو ازمائش سخت ہوتی ہے اور اگر دین وایمان میں کمزور ہو تو آمائش اس کی دینی اور ایمانی حالت کے مطابق ہلکی ہوتی ہے۔ بندے پر یہ آزمائش ہمیشہ آتی رہتی ہے حتٰی کہ مصائب پر صبر کی وجہ سے اسے یوں پاک کر دیا جاتا ہے وہ زمین پر اس طرح چلتا ہے کہ اس پر گناہ کا کوئی بوجھ نہیں رہتا۔ اولاد بڑی نعمت ہے اولاد کے ساتھ انسان میں زندگی کی رونق بحال ہو جاتی ہے جینے کا مقصد مل جاتا ہے مگر جب کسی وجہ سے اولاد چھن جائے تو تو انسان حواس باختہ ہو جاتا ہے اس مشکل وقت میں صبر کرنے والے کے بارے میں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔: جب کسی کا بچہ فوت ہو جائے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے تم نے میرے بندے کے نہایت پیارے بیٹے کی روح قبض کرلی۔ وہ کہتے ہیں جی ہاں اللہ تعالیٰ فرماتا........
