menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Khula

24 0
23.07.2026

مفہوم: خلع کے لفظی معنی اتار دینے کے ہیں شریعت اسلام کی اصطلاح میں یہ طلاق کی ایک قسم ہے۔ جس کا مطالبہ بیوی کی طرف سے کیا جاتا ہے جہاں شرع نے مرد کو ناگزیر حالات کی بنا پر طلاق دینے کا اختیار سونپ رکھا ہے وہاں عورت کو بھی کسی معقول وجہ کے باعث مرد سے طلاق لینے کا اختیار دے دیا ہے۔ اس طرح فریقین کو ایک مکمل مساوات کی سطح پر لا کھڑا کر دیا ہے قرآن مجید میں چونکہ میاں بیوی کو ان کے انتہائی گہرے تعلقات کی بنا پرایک دوسرے کا لباس قرار دیا گیا ہے۔ اس لئے جب ان کے تعلقات ختم ہو جائیں گے تو یہ سمجھ لیا جائے گا کہ گویا انہوں نے وہ لباس اتار دیا ہے اس لئے فریقین کی علیحدگی اور جدائی کے لئے خلع کی اصطلاح وضع کی گئی ہے۔

فقہ میں خلع سے مراد یہ ہے کہ جب میاں بیوی میں اتنی بیزاری پیدا ہو جائے کہ نکاح کا قائم رکھنا محال ہوجائے اور رشتہ ازدواج ان کے لئے ایک مصیبت بن جائے تو ایسی صورت میں زوجین کا سلسلہ مناکحت میں ایک دوسرے کے ساتھ بندھے رہنا نہ صرف فطری تقاضوں کے منافی ہے بلکہ انصاف کا خون بھی ہے۔ کیا یہ ظلم نہیں کہ ایک عورت بد قسمتی سے کسی ایسے ظالم، فاسق و فاجر اور بد قماش خاوند کے پلے باندھ دی جائے جو اس کے قلب و........

© Daily Urdu