menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Iddat

43 0
07.08.2026

عدت اور اسکا مقصد، عدت کے لفظی معنی گنتی اور شمار کرنے کے ہیں شرعی اصطلاح میں عدت اس مدت کو کہتے ہیں جو عورت کو خاوند سے طلاق ملنے یا اس کے فوت ہونیکے بعد نکاح ثانی کرنے سے قبل انتظار میں گزارنی پڑتی ہے۔ اس کے دو بنیادی مقاصد ہیں۔

1۔ اول تو یہ کہ حمل کی نسبت سے پوری تحقیق ہو جائے ممکن ہے کہ مطلقہ یا بیوہ عورت حاملہ ہو اور بعد میں بچے کا نسب نامہ محفوظ نہ رہ سکے جس سے وراثت یا رضاعت کے کٹھن مسائل پیدا ہو جائیں۔ حمل خواہ کتنے ہی ابتدائی درجہ میں کیوں نہ ہو عدت کے اختتام تک ظاہر ہو جاتا ہے۔

2۔ دوسرے یہ کہ شوہر کو ٹھنڈے دل سے غور و فکر کرنے کا موقع مل جائے عین ممکن ہے کہ اس دوران میں جذبات میں نرمی پیدا ہوکر اس کا غصہ فرو ہو جائے اور اصلاح کی کوئی صورت نکل آئے۔

شریعت اسلامی کی روح سے عدت کو ملحوظ رکھنا واجب ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو ان کو ان کی عدت پر طلاق دو اور عدت کا خیال رکھو۔ (الطلاق 1)

عدت کی اہمیت، جہاں اسلام کے سوا دنیا کے تمام دیگر مذاہب اور قومیں اصول عدت کے فوائد سے محروم ہیں وہاں اسلام کی نگاہ میں مسئلہ عدت کی اہمیت اس سے واضع ہو سکتی ہے کہ مطلقہ عورت کو عدت گزارنے کے حکم کے ساتھ ہی یہ تاکید بھی کر دی گئی ہے کہ جو کچھ اس کے پیٹ میں ہو اسے مخفی نہ رکھے بلکہ ظاہر کر دے۔ مطلب یہ ہے کہ خواہ حمل قائم ہو چکا ہو یا خواہ ایام ماہواری کا دور چل رہا ہو کوئی بھی صورت حال ہو اسے چھپانا نہ چاہیئے۔ کیونکہ چھپانے کی یہ کوشش زمانہ عدت کے شمار و حساب میں خلل انداز ہوگی اور اس طرح شریعت نے جو مصلحتیں رکھیں ہیں وہ ضائع ہو جائیں گیں چنانچہ فرمان باری........

© Daily Urdu