menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Siasi Sahiri Aur Muflis Shehar (2)

27 0
03.07.2026

سیاسی ساحری اور مفلسِ شہر (2)

بندن میاں نے چائے کے کھوکھے پر بیٹھے ہوئے اس کسان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پوچھا اچھا بڑے میاں سچ سچ بتانا تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش، تمہاری سب سے بڑی تمنا کیا ہے؟ کسان نے اپنی پگڑی کا کونہ درست کیا اس کی آنکھوں میں حسرت کی جھلک تھی وہ دھیمی آواز میں بولا بندن میاں مجھے کوئی محل نہیں چاہیے مجھے بس اپنی رات دن کی خون پسینے کی محنت کا پورا معاوضہ مل جائے تاکہ میں اگلے سال کے بیج کے لیے کسی ساہوکار کا محتاج نہ رہوں۔ بندن میاں نے پھر اس مزدور کی طرف رخ کیا جو اپنی سوکھی روٹی چبا چکا تھا اس سے پوچھا اور میاں مزدور تمہاری کیا خواہش ہے؟

مزدور نے اپنے کھردرے، چھالوں سے بھرے ہاتھ پھیلائے اور بولا حضور بس اتنی سی خواہش ہے کہ جب شام کو گھر لوٹوں تو بچوں کے لیے دو وقت کی عزت کی روٹی میرے ہاتھ میں ہو انہیں بھوکا نہ سونا پڑے۔ بندن میاں نے آخر میں اس خاموش کونے میں بیٹھے پنشنر بزرگ سے پوچھا باباجی آپ کیا چاہتے ہیں؟ آپ کی کیا تمنا ہے؟ وہ بزرگ کچھ دیر خاموش رہے ان کے ہونٹ کپکپائے اور پھر بڑی بے بسی سے بولے بیٹا بس اتنی سی التجا ہے کہ جب ڈاکٹر کی لکھی ہوئی دوائی خریدنے میڈیکل اسٹور پر جاؤں تو اپنی جیب ٹٹولتے وقت میری آنکھوں میں شرمندگی کے آنسو نہ آئیں مجھے ادھار نہ مانگنا پڑے۔ مجھے کسی کے آگے ہاتھ نا پھیلانے پڑیں۔ نظریں نا جھکانی پڑیں۔

یہ سننا تھا کہ بندن میاں کی پتھرائی ہوئی آنکھیں یکلخت نم ہوگئیں ان کا گلا رُندھ گیا انہوں نے گہری سانس لی اور وہاں بیٹھے لوگوں سے مخاطب ہو کر بولے دیکھو اوئے غافلو دیکھو ان مقتدر طبقوں کے اندھے اندھیرو یہ لوگ تم سے کوئی شیش محل نہیں مانگ رہے یہ تم سے صدارتی ہیلی کاپٹروں کی سواری نہیں مانگ رہے یہ تم سے کوئی ڈیفنس کے پلاٹ نہیں مانگ رہے یہ تو صرف انسان ہونے کے ناطے عزت سے جینے کا دو وقت کی روٹی کا اور سانس لینے کا حق مانگ رہے ہیں مگر افسوس صد افسوس اس جمہوری ملک میں اب غریب کے لیے عزت کی زندگی ہی سب سے نایاب، سب سے مہنگی اور سب سے دور کی چیز بن چکی ہے۔ بندن میاں نے چائے کا آخری، ٹھنڈا ہو چکا گھونٹ بھرا، اپنی عینک اتاری اور مسکراتے ہوئے کہا پاکستان کو اب ان جادوگروں، ان مداریوں اور ان تماش بینوں کی ضرورت نہیں ہے اس ملک کو اب صرف اور صرف انصاف کرنے والوں کی، دیانت داروں کی ضرورت ہے۔

ہمیں ایسی سیاست چاہیے جس میں جادو کی چھڑی نہیں بلکہ قانون کا قلم چلے اور وہ قلم پہلے غریب عوام کے حقوق کے لیے چلے ان کی تقدیر بدلنے کے لیے چلے اور بعد میں حکمرانوں کی اپنی ذات کے لیے اٹھے۔ ہمیں ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو آئی ایم ایف کا خوفناک نام صرف غریب کو ڈرانے کے لیے استعمال نہ کرے بلکہ جب ملک پر مشکل وقت آئے تو اپنی شاہی مراعات اپنے پروٹوکولز اور اپنے بنگلوں پر بھی وہی کٹوتی کا اصول لاگو کرکے دکھائے۔ کیونکہ جب تک اس ملک میں مزدور کا پسینہ سستا اور اقتدار کی آسائشیں مہنگی رہیں گی جب تک غریب کا خون نچوڑ کر امیروں کے محلات میں چراغاں ہوتا رہے گا تب تک اس قوم کے ناسور بن چکے زخموں پر کوئی مرہم نہیں لگ سکتا کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔

بندن میاں چائے کے بنچ سے اٹھے اپنی پرانی گھیس کندھوں پر ڈالی چپل کو زمین پر جھاڑا اپنی لاٹھی کو مضبوطی سے تھاما آسمانِ کبود کی طرف اپنی نمناک آنکھیں اٹھائیں اور بڑے سوزِ دل سے دعا مانگی اے کائنات کے مالک اے ارضِ پاک کے حقیقی محافظ اس مظلوم وطن پر کبھی ایسا وقت بھی لاکبھی ایسی صبحِ نو بھی دکھا جب سیاست کا سب سے بڑا معجزہ سب سے بڑا جادو اس عوام کی حقیقی خوشحالی ہو جب مزدور کے چہرے پر لکھی مسکراہٹ ہی ملک کی اصل ترقی ہو جب کسان کی سرسبز لہلہاتی فصل ہی ملک کا اصل اثاثہ ہو اور جب اس ملک کے بوڑھے پنشنرز کی دل سے نکلنے والی دعائیں حکومت کا اصل بجٹ ہوں کیونکہ جس بدنصیب قوم کے بزرگ جس ملک کے معمار راتوں کو اٹھ کر دعائیں دینے کے بجائے آہیں بھرنے لگیں، سسکیاں لینے........

© Daily Urdu