Chashm e Beena Aur Dil Ki Parakh Muashrati Islah Ka Lafani Usool
چشمِ بینا اور دل کی پرکھ معاشرتی اصلاح کا لافانی اصول
لیکن اب اس مادی دور میں اکثر لوگ دوسروں کی کمزوریوں، ان کی لغزشوں اور ان کی مجبوریوں کو اپنی محفلوں کی تفریح اور تمسخر کا ذریعہ بنا چکے ہیں اور رہی سہی کسر اس جدید دور کے سوشل میڈیا نے پوری کر دی ہے جس نے اس اخلاقی اور نفسیاتی بیماری کو وبا کی طرح پورے معاشرے میں پھیلا دیا ہے جہاں لوگ اپنے کمپیوٹر اور موبائل کی اسکرینوں کے پیچھے چھپ کر دوسروں کی ذاتی زندگیوں، ان کی لغزشوں اور ان کی خطاؤں پر اس طرح سفاکانہ تبصرے اور تضحیک آمیز جملے کستے ہیں جیسے وہ خود معصوم عن الخطا ہوں اور ان کا تعلق فرشتوں کی کسی اعلیٰ نسل سے ہو جن سے زندگی میں کبھی کوئی گناہ یا غلطی سرزد ہی نہیں ہو سکتی اور اسی تلخ حقیقت پر بندن میاں نے اپنی مخصوص طنزیہ اور گہری مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ بھئی ہمارے ہاں تو اب بعض لوگ ایسے دیدہ ور بن چکے ہیں جو اگر کسی انتہائی خوبصورت، سرسبز اور شاداب باغ میں بھی چلے جائیں جہاں سینکڑوں اقسام کے رنگ برنگے اور خوشبودار پھول کھلے ہوں تو وہ ان تمام پھولوں کے حسن اور خوشبو کو یکسر نظر انداز کرکے پورے باغ میں صرف ایک سوکھا ہوا پتا یا کوئی کچرا تلاش کرنے کی جستجو میں رہتے ہیں تاکہ وہ اس ایک سوکھے پتے کو ہوا میں لہرا کر اور دنیا کو دکھا کر یہ ثابت کر سکیں کہ یہ پورا باغ ہی خراب، اجڑا ہوا اور ناقص ہے حالانکہ ایک دانشمند، عاقل اور اعلیٰ ظرف انسان کبھی بھی ایک سوکھے ہوئے پتے یا ایک عیب کو دیکھ کر اس پورے باغ کے حسن، اس کی شادابی اور اس کی رعنائی کا انکار نہیں کرتا کیونکہ جدید سائنسی اور نفسیاتی تحقیقات بھی یہ واضح طور پر ثابت کرتی ہیں کہ جو لوگ اپنی زندگی میں مثبت سوچ، رجائیت اور اچھائی کا پہلو برقرار رکھتے ہیں وہ نہ صرف خود ذہنی اور جسمانی طور پر زیادہ خوش، مطمئن اور صحت مند رہتے ہیں بلکہ وہ دوسروں کی خوبیوں سے مسلسل سیکھتے ہیں۔
ان کا اعتراف کرکے اپنے سماجی تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں اور اپنی زندگی کو پسماندگی سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں جبکہ اس کے برعکس جو لوگ منفی سوچ کے اسیر ہوتے ہیں اور ہر وقت دوسروں کے عیبوں، خامیوں اور نقصانات کی فہرستیں تیار کرنے میں الجھے رہتے ہیں وہ نہ صرف اپنے اندر حسد کا زہر بھرتے ہیں بلکہ وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کے تمام بہترین مواقع بھی ہمیشہ کے لیے کھو دیتے ہیں کیونکہ جو شخص ہر وقت دوسروں کی خامیوں کی کتاب پڑھنے میں مصروف رہے گا اسے اپنی ذات کے اندر جھانکنے اور اپنی اصلاح کرنے کی کبھی مہلت ہی نہیں مل پائے گی اور اس کائناتی سچائی کو سمجھنے کے لیے بندن میاں نے ایک محنتی کسان کی خوبصورت مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک کسان اگر اپنی لہلہاتی ہوئی فصل میں اگنے والی چند خودرو جڑی بوٹیوں کو ہی دیکھ کر مایوس ہوتا رہے اور ان جڑی بوٹیوں کے خوف سے اپنی اصل فصل کو پانی دینا اور اس کی دیکھ بھال کرنا چھوڑ دے تو آخرکار اس کی وہ پوری زرخیز فصل ہی تباہ و برباد ہو جائے گی لیکن اگر وہ دانا کسان ان جڑی بوٹیوں کو تلف کرنے کے ساتھ ساتھ........
