menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aik Chalan Se Bara Sawal

29 0
05.10.2026

ایک چالان سے بڑا سوال

سوشل میڈیا پر آج ایک ایسی خبر گردش کر رہی ہے جس نے دل کو ہلا کر رکھ دیا ہے کہ ایک ڈرائیور کو دس ہزار روپے کا چالان کیا گیا اور مبینہ طور پر اس نے غصے میں آکر دو ٹریفک پولیس اہلکاروں کو گولی مار دی اور اس کے بعد خود کو بھی گولی مار لی۔ اس خبر کی مکمل حقیقت اور اس کے تمام محرکات کی تصدیق اپنی جگہ ایک الگ معاملہ ہے لیکن اس خبر نے ہمارے سامنے ایک ایسا سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے جس سے ہم آنکھیں نہیں چرا سکتےہیں آخر ہمارا معاشرہ کس سمت جا رہا ہے اور ہم بحیثیت انسان ایک دوسرے کے ساتھ کہاں کھڑے ہیں۔ ایک چالان اگر کسی انسان کے ہاتھ میں بندوق دے دے تو مسئلہ صرف چالان کا نہیں رہتا بلکہ اس کے پیچھے ایک پوری ذہنی کیفیت ایک پورا معاشرتی ماحول ایک بڑھتا ہوا اضطراب اور برداشت کے کم ہوتے ہوئے دائرے کی کہانی چھپی ہوتی ہے۔ ہمیں اس واقعے کو صرف ایک ڈرائیور کی غلطی کہہ کر آگے نہیں بڑھ جانا چاہیے اور نہ ہی صرف پولیس اہلکاروں کو مورد الزام ٹھہرا کر اپنے دل کو مطمئن کر لینا چاہیے بلکہ ہمیں اس سوال کی تہہ تک جانا ہوگا کہ وہ کون سے حالات ہیں جو ایک انسان کو اس مقام تک پہنچا دیتے ہیں جہاں اسے اپنی جان بھی عزیز نہیں رہتی اور دوسرے کی جان بھی اس کے لیے بے معنی ہو جاتی ہے۔ انسان جب غصے میں آتا ہے تو اس کا شعور چند لمحوں کے لیے دھندلا سکتا ہے لیکن انسان کو انسان بنانے والی اصل خوبی یہی ہے کہ وہ ان چند لمحوں پر قابو پانے کی صلاحیت پیدا کرے۔ ایک مہذب معاشرے میں قانون ضروری ہے کیونکہ قانون کے بغیر معاشرہ طاقتور اور کمزور کے درمیان ایک ایسی جنگ بن جاتا ہے جس میں انصاف کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتاہے لیکن قانون کا احترام صرف شہری کی ذمہ داری نہیں بلکہ قانون بنانے والے اور قانون نافذ کرنے والے دونوں کی بھی ذمہ داری ہے۔ قانون اگر شہری کو نظم سکھاتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے کا رویہ اسے قانون سے جوڑتا بھی ہے اور کبھی کبھی بدقسمتی سے قانون سے متنفر بھی کر سکتا ہے۔ ایک شہری کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ قانون توڑے یا کسی اہلکار پر ہاتھ اٹھائے یا کسی کی جان لے لیکن ایک اہلکار کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ قانون کی طاقت کو کسی شہری کی تذلیل کا ذریعہ بنائے۔ ریاست کی طاقت اگر شائستگی کے ساتھ استعمال ہو تو شہری کے دل میں اعتماد پیدا کرتی ہے اور اگر وہ تحقیر سخت کلامی غیر ضروری سختی اور بے جا دباؤ کے ساتھ استعمال ہو تو وہی طاقت دلوں میں خوف کے ساتھ ساتھ نفرت بھی پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے قانون نافذ کرنے والے ہر ادارے کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وردی صرف اختیار کی علامت نہیں بلکہ برداشت شائستگی صبر اور ذمہ داری کی بھی علامت ہے۔ ٹریفک پولیس کا کام صرف چالان کرنا نہیں بلکہ سڑک پر نظم قائم کرنا ہے۔ اگر کوئی شخص ٹریفک قانون توڑتا ہے تو اسے قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا چاہیے لیکن کارروائی کے ساتھ انسانی احترام بھی باقی رہنا چاہیے۔ ایک چالان ضرور کیا جائے مگر انسان کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔ قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ ضرور ہو مگر ایسے الفاظ نہ بولے جائیں جو........

© Daily Urdu