menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Urdu Fiction Aur Firqa Wariat

21 6
20.02.2026

اردوفکشن اور فرقہ واریت

تقسیم کے بعد تخلیق ہونے والے اردو فکشن کو جب بھی میں نے توجہ اور یکسوئی سے پڑھا، تو ایک خلا نے بار بار چونکایا، ایک ایسا خلا جو محض موضوعی نہیں، تاریخی اور اخلاقی بھی ہے۔ ہماری اجتماعی تاریخ کے کئی اہم اور فیصلہ کن واقعات فکشن کے منظرنامے سے گویا محو کر دیے گئے۔ وہ موجود تھے، مگر غیر موجود، ان کا اثر تھا، مگر ان کا ذکر "غائب"۔

تقسیم اور فسادات پر لکھے گئے افسانوں میں ہندو، مسلم، سکھ تناظر میں فرقہ واریت کو جس ہمہ جہتی اور انسانی پیچیدگی کے ساتھ دیکھا گیا، وہ اپنے عہد کی ایک بڑی ادبی دستاویز ہے۔ مگر پاکستان کے قیام کے بعد جب فرقہ واریت کی نوعیت بدل گئی جب اس کا رخ اندرونی مذہبی شناختوں کی طرف مڑ گیا تو اس نئے منظرنامے کی بازگشت ہمیں اردو فکشن میں شاذ ہی سنائی دیتی ہے۔

یہاں ایک سوال شدت سے ابھرتا ہے: کیا مغربی پنجاب کے اردو افسانہ نگاروں میں کوئی ایسا ہے جس نے اپنے عہد کے پنجاب کو اس طرح برتا ہو جیسے بلونت سنگھ نے؟"پہلا پتھر"، "میں رو دونگی"، لمحے، کالے کوس، ویبلے اٹ، یہ محض افسانے نہیں، انسانی ذہن کی تہوں میں اترنے والی تحریریں ہیں۔

بلونت سنگھ کے افسانے "لمحے" میں فرقہ وارانہ فضا محض پس منظر نہیں، ایک زندہ، سانس لیتی ہوئی نفسیاتی طاقت ہے جو انسان کے اندر اتر کر اس کی سوچ، اس کے لمس، اس کی نگاہ، یہاں تک کہ اس کی معصومیت کو بدل دیتی ہے۔ فساد اور تشدد سے بھرا ہوا زمانہ صرف گلیوں اور بازاروں کو خون آلود نہیں کرتا، وہ ذہنوں میں بارودی سرنگیں بچھا دیتا ہے۔ انسان پہلے نام پوچھتا ہے، پھر مذہب، پہلے مسکراتا ہے، پھر چونک جاتا ہے، پہلے قریب آتا ہے، پھر ہاتھ روک لیتا ہے۔

"لمحے" میں یہی تبدیلی ایک بے ضرر، تقریباً معمولی سے مکالمے میں ظاہر ہوتی ہے، مگر وہ معمولی نہیں رہتا۔ ایک نام، ایک شناخت، ایک لفظ اور اچانک ذہن کے اندر کوئی دیوار کھڑی ہو جاتی ہے۔ وہی انسان جو ابھی تک ایک اور انسان کو محض انسان سمجھ رہا تھا، اب اس کے لیے "دوسرا" بن جاتا ہے۔ یہ تبدیلی کسی منطق سے نہیں، ایک اجتماعی خوف، ایک اجتماعی تعصب، ایک اجتماعی ہیجان سے پیدا ہوتی ہے۔

فرقہ وارانہ ماحول انسان کے اندر ایک مستقل چوکسی پیدا کر دیتا ہے جیسے ہر شخص کے ماتھے پر اس کی مذہبی شناخت لکھی ہو اور اسے پڑھ لینا بقا کی شرط ہو۔ فساد کا زمانہ انسان کو اخلاقی نہیں، قبائلی بنا دیتا ہے۔ وہ پہلے اپنے گروہ کو دیکھتا ہے، پھر حق کو۔ وہ پہلے نام کا وزن تولتا ہے، پھر انسانیت کا۔

پاکستان بننے کے بعد یہی ذہنی ساخت سب سے پہلے احمدیوں کے بارے میں اجتماعی سطح پر ابھری۔ ایک پوری برادری کو رفتہ رفتہ "دوسرا" بنایا گیا۔ ان کے نام، ان کے سلام، ان کی عبادت گاہیں، ان کی شناخت سب کو مشکوک قرار دیا گیا۔ جو ہمسایہ تھا، وہ "مسئلہ" بن گیا۔ جو ساتھی تھا، وہ "خطرہ" ٹھہرا۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی، یہ اسی طرح آئی جیسے "لمحے" میں ہاتھ آہستہ سے رک جاتا ہے بغیر کسی شور کے، مگر اندر سے سب کچھ بدلتے ہوئے۔

پھر 1980ء اور 1990ء کی دہائیوں میں یہی ذہنی سانچہ شیعہ برادری کے بارے میں بروئے کار آیا۔ ایران سے نسبت، ایجنٹ ہونے کے الزامات، عقیدے کو مشکوک قرار دینا، شناخت کو جرم بنا دینا یہ سب اسی نفسیاتی عمل کے مظاہر تھے۔ ایک پورا بیانیہ تشکیل دیا گیا جس میں نام سن کر چونک جانا، مسلک پوچھ کر فاصلے بڑھا لینا اور بالآخر شناخت کو سزا میں بدل دینا معمول بن گیا۔

فساد صرف لاشیں نہیں گراتا، وہ اعتماد کو مارتا ہے۔ وہ رشتوں کے بیچ دراڑیں ڈالتا ہے۔ وہ ایک ایسے معاشرے کو جنم دیتا ہے جہاں سوال یہ نہیں رہتا کہ "تم کون ہو؟" بلکہ یہ ہو جاتا ہے کہ "تم ہمارے ہو یا نہیں؟"

بلونت سنگھ نے اس نفسیاتی تبدیلی کی ایک جھلک دکھائی تھی ایک لمحہ، جو بظاہر چھوٹا ہے مگر دراصل ایک پورے عہد کی ذہنی ساخت کو عیاں کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تقسیم کے بعد جب یہی ذہنی عمل ہمارے اپنے معاشرے کے اندر، ہماری اپنی گلیوں اور محلّوں میں، ہماری اپنی مسجدوں اور امام بارگاہوں کے بیچ جاری تھا، تو ہمارے فکشن نے اس پر کتنی نظر ڈالی؟

فرقہ واریت کا سب سے ہولناک پہلو یہی ہے کہ وہ پہلے ذہن میں جنم لیتی ہے، پھر لفظوں میں، پھر نعروں میں اور آخرکار گولی میں ڈھل جاتی ہے۔ "لمحے" ہمیں اس ابتدائی ذہنی ارتعاش کو دکھاتا ہے وہ لمحہ جب ہاتھ رک جاتا ہے۔ مگر ہماری تاریخ گواہ ہے کہ بعد کے عشروں میں وہ رکا ہوا ہاتھ کئی بار ٹریگر پر بھی جا ٹھہرا۔

بلونت سنگھ کا افسانے کی یہ درج ذیل سطریں اس کیفیت اور ذہنیت کی کمال کی عکاس ہیں:

["اچھا تو بتاؤ تمہارا نام کیا ہے؟"

"سلطانہ"۔ عورت نے کہا۔ مجھے پہلی مرتبہ اس بات کا علم ہوا کہ وہ مسلمان ہیں۔ سلطانہ کی بغلوں کو گدگداتے ہوئے میرے ہاتھ رک گئے۔ میں نے قدرے ہچکچاتے ہوئے دریافت........

© Daily Urdu