menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

High School Mein Filmon Ko Adab Ki Tarah Parhana Chahiye

22 0
14.06.2026

ہائی اسکول میں فلموں کو ادب کی طرح پڑھانا چاہیے

اسکولوں میں جب سے آڈیو ویژول آلات آئے ہیں، اساتذہ طلبہ سے ادبی کتابوں اور ان پر بننے والی فلموں کا موازنہ کرواتے رہے ہیں۔ یہ طریقہ عام ہے، لیکن طلبہ کو یہ سمجھانے کا ایک زیادہ مؤثر طریقہ موجود ہے کہ فلم کی بھی اپنی الگ بصری زبان ہوتی ہے۔ اس کے لیے ایسی فلموں کا انتخاب کیا جاسکتا ہے جو کسی ادبی تخلیق جیسے موضوعات رکھتی ہوں، لیکن خود اس کتاب یا کہانی کی فلمی شکل نہ ہوں۔

ادبی کتابوں پر بننے والی فلمیں اکثر اصل متن سے وفاداری نبھانے کی کوشش میں محدود ہوجاتی ہیں۔ 1970 کی فلم گریٹ گیٹس بی اس کی ایک مثال ہے۔ ناول میں نک، گیٹس بی کی مسکراہٹ کو ایسی تفصیل اور پُراثر طریقے سے بیان کرتا ہے کہ قاری کے ذہن میں ایک خاص تاثر پیدا ہوجاتا ہے۔ لیکن فلم میں رابرٹ ریڈفورڈ کی مسکراہٹ وہ کیفیت پیدا نہیں کر پاتی جو الفاظ نے پیدا کی تھی۔

بعد میں باز لوہرمن نے گریٹ گیٹس بی کو دوبارہ فلمایا تو اس نے الفاظ کے بجائے بصری تکنیکوں کا سہارا لیا۔ ایک منظر میں گیٹس بی مسکراتا ہے، وقت جیسے سست پڑ جاتا ہے اور پس منظر میں آتش بازی پھوٹتی ہے۔ اس طرح ناظر وہی تاثر محسوس کرتا ہے جسے ناول نے الفاظ کے ذریعے بیان کیا تھا۔

ادب اور فلم کے درمیان موزوں جوڑ تلاش کرنا آسان نہیں۔ لیکن اس کا فائدہ یہ ہے کہ طلبہ سمجھنے لگتے ہیں کہ بہترین فلمیں بھی وہی کام کرتی ہیں جو عمدہ ادب کرتا ہے۔ ادب کردار نگاری، علامت........

© Daily Urdu