menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kya Hum Bwaqoof Hain?

16 0
16.05.2026

یہ سوال صرف طنز نہیں بلکہ ایک قومی آئینہ ہے۔ ایک ایسا آئینہ جس میں پاکستانی قوم اپنی اجتماعی نفسیات، اپنی عادتوں، اپنے ردعمل اور اپنی ترجیحات کو دیکھ سکتی ہے۔ دُنیا کی ہر قوم اپنی تاریخ اپنے دُکھوں اور اپنی کامیابیوں سے بنتی ہے۔ پاکستانی قوم بھی انہی پیچیدہ عوامل کا نتیجہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم بہ حیثیتِ قوم ہمیشہ جذبات میں فیصلے کرتے ہیں اور عقل کو وقتی مفاد کے تابع بنا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی ہم کسی کو نجات دہندہ بنا دیتے ہیں اور چند سال بعد اسی کو غدار کہنے لگتے ہیں۔ ہم نعروں پر جلد یقین کرتے ہیں اور سوال پوچھنے سے گھبراتے ہیں۔ یہی تضاد اس قوم کی سب سے بڑی نفسیاتی کمزوری بن چکا ہے۔

قیام پاکستان کے وقت یہی قوم بے مثال قربانیوں کا استعارہ تھی۔ لاکھوں لوگ ہجرت کرکے آئے، اپنے گھر، اپنی زمینیں اور اپنے رشتے چھوڑ دیے۔ یہ بے وقوفی نہیں تھی بلکہ ایک نظریے پر یقین تھا۔ یہی قوم تھی جس نے 1965 کی جنگ میں اجتماعی جذبہ دکھایا۔ 1970 کی دہائی میں صنعت کاری کے خواب دیکھے۔ ایٹمی پروگرام کے لیے بھوک برداشت کی۔ زلزلوں سیلابوں اور دہشت گردی کے دوران ایک دوسرے کی مدد کی۔ دُنیا کے کئی معاشروں میں اتنی بڑی سماجی امداد کا جذبہ کم نظر آتا ہے۔ پاکستانی معاشرہ ابھی بھی خاندان، پڑوسی اور رشتوں کے تصور سے وابستہ ہے۔ یہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر قوم اتنی صلاحیت رکھتی ہے تو پھر بار بار بحران کیوں پیدا ہوتے ہیں؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پاکستانی قوم کو مسلسل جذباتی سیاست کی گئی۔ یہاں تعلیم سے زیادہ شخصیت پرستی کو فروغ ملا۔ عوام کو اداروں کی بجائے چہروں سے محبت کرنا سکھایا گیا۔ کبھی فوج کو مکمل نجات دہندہ بتایا گیا۔ کبھی سیاست دانوں کو مسیحا بنا دیا گیا۔ کبھی مذہب کو........

© Daily Urdu