menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Qalam Ki Hurmat Aur Shahi Babu Culture

29 0
03.09.2026

قلم کی حرمت اور شاہی بابو کلچر

تاریخ کے اوراق میں کچھ واقعات محض ماضی کے قصے نہیں ہوتے، بلکہ قوموں کے عروج و زوال کا پورا فلسفہ اپنے دامن میں سمیٹے ہوتے ہیں۔ جب پاکستان نیا نیا وجود میں آیا تھا، تو اس کے پاس مالی وسائل کا شدید قحط تھا، لیکن اخلاقی اور قومی سرمائے کی کوئی کمی نہ تھی۔ اسی دور کا ایک واقعہ پاکستان کے پہلے چیف جسٹس، میاں عبدالرشید سے منسوب ہے، جو آج بھی ہر باضمیر انسان کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اپنی ملازمت کے آخری دن، جج صاحب نے اپنے سرکاری قلم کو کاغذ پر گھس کر اس کی آخری بوند تک سیاہی خالی کر دی اور نہایت وقار سے فرمایا کہ یہ سیاہی اور قلم ملک کی امانت ہے، میں اسے اپنے ساتھ گھر نہیں لے جا سکتا۔ یہ محض ایک ڈراپ سیاہی بچانے کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس ذہنیت، دیانت اور اصول پرستی کا مظہر تھا جس پر ایک نوزائیدہ ریاست کی بنیاد رکھی گئی تھی اور یہی وہ اخلاقی طاقت تھی جس کے باعث 1960ء کے عشرے میں پاکستان نے جاپان جیسے ملک کو 12 کروڑ روپے کا قرضہ جاری کیا تھا، وہی جاپان جو آج معاشی دنیا کا شہنشاہ ہے اور ہم اس کے سامنے کشکول لیے کھڑے ہیں۔

جسٹس میاں عبدالرشید کا یہ طرزِ عمل کوئی تنہا واقعہ نہیں تھا، بلکہ قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں ایسے کرداروں کی ایک پوری فیکٹری قائم تھی جو ریاست کی بقا اور عوامی خدمت کو ہی اپنا دین و ایمان سمجھتے تھے۔ ذرا بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی پر نظر ڈالیں، جن کی دیانت کا لوہا ان کے دشمن بھی مانتے تھے۔ جب ان کے سیکیورٹی افسر نے گورنر جنرل ہاؤس کی گاڑی پر بلٹ پروف شیشہ لگانے کی تجویز دی، تو قائد اعظم نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ غریب عوام کے ٹیکس کی رقم کو ان کے ذاتی آرام یا تحفظ پر ضائع کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے گورنر جنرل بننے کے بعد سرکاری خزانے سے چائے کا ایک کپ تک بغیر ضرورتِ امر نہیں پیا۔

انہی کے قدم بقدم چلتے ہوئے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان، جو ہندوستان کی امیر ترین........

© Daily Urdu