menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dakhliyat Aur Hayat e Dakhli

19 0
03.07.2026

داخلیت اور حیاتِ داخلی

انفس و آفاق نہایت پیچیدہ موضوعات ہیں۔ ہمارے ہاں عرفانی علوم کے انتشار اور ان سے عمومی لاتعلقی کی فضا میں داخلیت اور انسانی انفس کے بارے میں گفتگو کی علمی زمین شور زدہ ہو چکی ہے اور وہاں اب کوئی روئیدگی نہیں ہے۔ جدید نفسیات کے عروج اور نفسیاتی طب / سائیکیٹری کے پیشہ بن جانے سے مسلم انفس کے بارے میں ہمارے روایتی علوم مزید غیرمتعلق ہو گئے۔ عہد حاضر میں انسانی عمل کا مدار قدر سے علم پر منتقل ہو جانے کی وجہ سے ہر طرح کا خلط مبحث علوم میں داخل ہوگیا ہے اور مسلم ذہن ان علوم میں ایک کٹی پتنگ کی طرح "محو پرواز" رہتا ہے۔ لیکن بطور مسلمان ہم درپیش زندگی کو چونکہ ایک بارِ امانت اور اسے بامعنی سمجھتے ہیں اس لیے ایسے موضوعات پر بات کرنا مکلف ہونے کی ذمہ داری کو پورا کرنا ہے اور قطعی ناگزیر ہے۔

دوسری طرف، جدیدیت کی پیدا کردہ جدید سیاسی اور معاشی قوتوں اور ان کے قائم شدہ نظام کے مکمل تسلط اور عین اسی نظام کے پیدا کردہ علوم کے غلبے میں ایک مسلمان کے لیے انسانی آفاق کے بارے میں بات کرنے کے علمی وسائل کا بھی کال پڑا ہے۔ آفاق، ارض اور دنیا کا مجموعہ ہے۔ جدید آفاق کے ارضی پہلو کو سائنسی علوم اور ٹکنالوجی نے گھیر رکھا ہے جبکہ دنیوی پہلو کو جدیدیت کے سیاسی اور معاشی علوم نے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور صورت حال یہ ہے کہ مسلمان کے لیے کھڑے ہونے کی کوئی جگہ بھی شاید باقی نہیں رہی ہے۔ اس باعث انفس و آفاق کی باہم اثراندازی اور اثر پذیری کے بارے میں بھی کچھ کہنے کی دشواریاں دوچند ہوگئی ہیں۔ لیکن انسان کی پیداکردہ کوئی بھی صورت حال اور کوئی بھی تصور چونکہ مطلق نہیں ہوتا، اس لیے گفتگو کے امکانات کو بھی پیش بند (foreclose) نہیں کیا جا سکتا اور ہمیں دستیاب وسائل میں اپنی سی بات کہنے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔

گزارش ہے انسانی داخلیت (subjectivity) اپنے اندر ذہنی اور نفسی دونوں پہلو رکھتی ہے، لیکن اس پر گفتگو کرتے ہوئے اس امر کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے کہ داخلیت کے جدید تصورات اور انفس کا عرفانی تصور بالکل بھی ہم معنی نہیں ہیں۔ داخلیت (subjectivity) ایک جدید نفسیاتی اور فلسفیانہ تصور ہے اور جدیدیت کے ہر تصور کی طرح مکمل طور پر اثباتیاتی (positivistic) ہے۔ جدید نفسیات اور فلسفے نے انسانی داخلیت کو طبعی فطرت کی مادی اشیا و مظاہر کی طرح مکمل طور پر مقداری (quantify) بنا دیا ہے۔ جدید نفسیاتی اور فلسفیانہ علوم انسانی داخلیت کو ایک ناپتولی مظہر (quantifiable phenomenon) کے طور پر دیکھتے اور برتتے ہیں۔ اگر داخلیت کے جدید اثباتیاتی تصور کو علماً سمجھنا مشکل ہے تو اسے ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ جدید تعلیم کی اساس میں کارفرما ٹکسانومی (taxonomy) اسی مادی بنیاد پر ہی ممکن ہو سکی ہے۔

اگر انسانی عمل کی بنیاد کسی قدر پر نہ ہو اور اسے کسی "علمی" تصور پر قائم کرنا ہو تو اس کا مکمل طور پر مادی، اثباتیاتی اور تشبیہی ہونا ضروری ہوتا ہے اور اگر انسانی عمل کی........

© Daily Urdu