menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mehman Nawazi Ho To Aisi

18 0
31.03.2026

مہمان نوازی ہو تو ایسی

ارشاد باری تعالی ہے اللہ چاہتا ہے کہ اپنے احکام تمہارے سامنے بیان کر دے اور تمہیں اگلوں کی روش بتا دے اور تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد پاک مصطفی ﷺ کی زندگی اُنکے اطوار، اُنکی سیرت اُنکے فرمان، ہمارے لیے بہترین مشعل را ہ اور زندگی گزارنے کے لیے بہترین عملی نمونہ ہے۔ میں اپنے نبی کریم ﷺ کے چند فرامان سے مہمان نوازی کی اہمیت و فضائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کروں گی۔ امید کرتی ہوں اِس تحریر کو تمام پڑھنے و سننے والے اِس سے استفادہ حاصل کریں گے۔

وقت حاضر میں ہمیں مہمان نوازی کی اہمیت کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت و تکریم کرے۔ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا ہر شے کی ایک زکوۃ ہے اور گھر کی زکوۃ مہمان خانہ ہے۔

مہمان اپنا رزق ليکر آتا ہے اور صاحب خانہ کے گناہ لیکر جاتا ہے (بہار الانوار)

میرے نبی ﷺ کا فرمان ہے جو آدمی مہمان نوازی نہیں کرتا اس میں کوئی خوبی نہیں ہے۔ (مسند احمد)

نبی پاک ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے جنہوں نے مہمان نوازی کی تھی وہ حضرت ابراہیمؑ تھے۔ حضرت ابراہیمؑ اللہ کے بہت سخی غنی مہمان نواز بندے تھے۔ حضرت ابراہیمؑ کے گھر کے چار دروازے تھے اور وہ یہ خواہش رکھتے تھے کہ میرے گھر کے چاروں اطراف سے مہمان آئیں اور میں مہمانوں کو کھانا کھلایا کروں۔

بخاری شریف میں روایت ہے کہ رسول پاک ﷺ نے ایک دن و رات مہمان کی خدمت اس کا جائز حق رکھا ہے اور اس کی دعوت و مہمان نوازی تین دن ہے اس کے بعد کی میزبانی اس کے لیے صدقہ ہے اور مہمان کے لیے زیادہ دن ٹھہر کر میزبان کو تنگی میں مبتلا کرنا جائز نہیں ہے۔ (بخاری 4350)

حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا آدمی اپنے مہمان کا استقبال دروازے سے باہر نکل کر کرے اور رخصت کے وقت گھر کے دروازے تک اپنے مہمان کو پہنچائے۔ (ابن ماجہ)

ایک اور جگہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اُس گھر میں بھلائی بڑی تیزی کیساتھ داخل ہوتی ہے جس گھر میں مہمان نوازی کی جائے اور اس بات کو ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ایک بہت خوبصورت مثال دے کر اپنی امت کے لوگوں کو سمجھایا وہ مثال ایسی ہے

آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس طرح تیز چھری اونٹ کی کوہان میں تیزی سے داخل ہوتی ہے اتنی ہی تیزی سے میرا اللہ اُس گھر میں بھلائی اتارتا ہے جس گھر میں مہمان کا اکرام و احترام خوشی سے کیا جائے۔

ایک روز رسول پاک ﷺ کی خدمت میں مہمان حاضر ہوئے۔ ایک صحابی حضرت طلحہ انصاریؓ نے رسول اکرم ﷺ سے عرض کی، یا رسول اللہ اپنے ان مہمان کی مہمان نوازی کا شرف مجھے عطا فرمائیں۔ رسول پاک ﷺ نے فرمایا لے جاؤ حضرت طلحہ انصاری گھر گئے اور اپنی زوجہ محترمہ سے کہا کہ مہمان آیا ہےگھر میں کھانے کو کیا میسر ہے تو انہوں نے کہا کہ صرف بچوں کے لیے مختصر سا کھانا موجود ہے۔ صحابی رسول نے کہا کہ آج بچوں کو بغیر کھانا کھلائے سلا دو اور مہمان کے لئے کھانے کا انتظام کرو۔

پھر حضرت طلحہ انصاریؓ نے کہا کہ جب مہمان کھانا کھانے لگے تو تم چراغ کو ٹھیک کرنے کے بہانے سے بجھا دینا مہمان کو عجیب نہ لگے کہ وہ اکیلا ہی کھا رہا ہے اس لیے میں یہ ظاہر کروں گا کہ میں بھی ساتھ میں کھانا کھا رہا ہوں۔ چونکہ کھانے کی مقدار کم تھی بمشکل وہ صرف مہمان کے لیے ہی تھا لہذا اُنکی بیوی نے ایسا ہی کیا۔ چراغ کو ٹھیک کرنے کے بہانے گل کر دیا۔

جب مہمان کھانا کھا چکا اور چلا گیا۔ اگلے روز نبی اکرم ﷺ نے حضرت طلحہ سے فرمایا۔ طلحہ تمہارے رب کو تمہاری یہ ادا بےحد پسند آئی ہے۔ تمہارا رب تم........

© Daily Urdu