Mera Mashwara Theek Tha
کیا ٹھیک ہے اور کیا غلط، کیا اچھا ہے اور کیا برا، کیا گناہ ہے اور کیا ثواب۔ ان باتوں کے معنی و مفہوم زمان و مکان کے بدلنے کے ساتھ عمر کے بڑھنے کے ساتھ، علم کے حصول ساتھ، شعور و آگہی کے ساتھ، اہل علم کی قربت کے ساتھ ساری عمر بدلتے رہتے ہیں۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے میں ایک عالم دین کی خدمت میں پیش ہوا۔ مجھے دو باتیں اکثر الجھائے رکھتی تھیں کہ میں نے ٹھیک کیا یا غلط، کہیں میں مجرم تو نہیں۔ ایک فیملی مجھے ملنے میرے گھر آئی انکا بچہ معذوری کی ایک ایسی نایاب قسم کے ساتھ تھا کہ اسکا مسلسل علاج بھی اسے زندہ رکھنے کے لیے ضروری تھا اور بچے کے والد کی ملازمت گھر کا چولہا جلانے کے لیے بھی ناکافی تھی۔ اولاد کا صدمہ اس باپ کی ہمت توڑ چکا تھا۔ مگر ماں چاہ کر بھی ہمت نہیں ہار سکتی تھی۔ میں نے بچے کے والد سے پوچھا کہ آپ کیا کام کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا لیڈیز کپڑوں کی ایک دکان پر سیلز مین ہوں۔ پچیس ہزار روپے تنخواہ ہے۔ بچے کی والدہ نے کہا انہوں نے پرائیویٹ سکول میں ٹیچنگ شروع کی تھی دس ہزار روپے تنخواہ تھی تو پھر چھوڑ دی۔
میں نے اس بھائی سے پوچھا کہ آپ کی دوکان پر مردانہ کپڑے بھی ہوتے ہیں؟ بولے جی ہوتے ہیں۔ میں نے کہا وہاں آپ کی مسز کو ملازمت مل سکتی ہے؟ بولے آج تک اپنی زندگی میں ایسی روایتی تھان والی لوکل دکانوں میں کہیں بھی کسی عورت کو مردانہ کپڑے کی سیلز میں نہیں دیکھا۔ ملازمت کا کیا ہے مل جائے گی مگر یہ بہت ہی عجیب کام ہوگا۔ سارا خاندان باتیں کرے گا دوست یار مجھے بے غیرت کہیں گے۔ اچھے برے لوگوں کا آنا جانا دکان پر لگا رہتا ہے تو گندی نظروں سے یہ کیسے بچا پائے گی خود کو؟ اسلام میں بھی عورت کو گھر رہنے کا حکم ہے۔ کمانا مرد کے ذمے ہے۔ میں جاب بدل لونگا مگر اسے کہیں نہیں ملازمت کروانی، وغیرہ وغیرہ۔
میں نے بچے کی والدہ سے بات کی کہ آپ کو زیادہ پیسوں کی ضرورت ہے۔ چھوٹی موٹی ملازمت نے کچھ نہیں کرنا، آپ خود سوچیں کیا کر سکتی ہیں۔ آپ نے اب کچھ کرنا ہے۔ ماں ہیں آپ اتنی بے بس نہ بنیں۔ آپ کی ذات سے ہی صفا و مروہ کی سعی منسوب ہے۔ انہوں نے کہا آپ ہی بتائیں سر جو کہیں گے میں کروں گی۔ ان کو چھوڑیں آپ۔ میں نے کہا آپ کے خاوند کا بارہ سالہ کپڑوں کی سیلز کا تجربہ ہے۔ آپ دونوں کو مل کر یہی کام اپنا کرنا چاہئیے۔ مگر آغاز میں آپ بھی ملازمت کر لیں۔ یہ........
