Tehzeeb Ki Qirat
"ہم ایک تہذیبی شیزوفینیا میں مبتلا ہیں، جس نے خود ہمیں اپنی نگاہ سے پوشیدہ کر رکھا ہے۔ خیالی غلبے کی لذت اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ واقعی مغلوبیت کی کسک محسوس ہی نہیں ہوتی۔ " یہ مختصر اقتباس حال ہی میں شائع ہونے والی ایک عمدہ کتاب "تہذیب کی قرأت" سے ہے (ایمل مطبوعات اسلام آباد)۔ کتاب کے مصنف معروف دانشور، فلاسفر اور ماہر اقبالیات احمد جاوید ہیں۔
اپنے نام اور موضوعات کے اعتبار سے یہ کتاب اسم با مسمیٰ ہے۔ ہمارے ہاں علمی حلقوں میں زیربحث بہت سے اہم موضوعات اس کتاب کا حصہ ہیں: ایمان اور عقل جدید، تہذیب و ثقافت، مغرب: فکری اساسیات سے ماسٹرز بعد جدیدیت تک، دین، احیائے دین اور مذہبی، اصلاحی وسیاسی تحریکیں، مابعدالانسان دور، اقبالیات، ادب و فنون، مختلف نظام ہائے تعلیم و تربیت اور ٹیکنالوجی اور میڈیا۔
کتاب کا عنوان انتہائی معنی خیز ہے۔ اپنی تاریخ، تہذیب اور ورثے کا فخریہ اقرار اور اس کی گہرائی میں اتر کر قرأت پر مبنی ہے۔ احمد جاوید باقاعدگی سے مختلف محفلوں، مجالس اور چینلز پر ان موضوعات پر انتہائی پرمغز اور سنجیدہ گفتگو کرتے آئے ہیں۔ یہ کتاب ان کے ایسے ہی مکالموں سے کشید ہے۔ گفتگو یا بیانیہ مواد سے کتاب کی تدوین مشکل امر ہے لیکن شاہد اعوان نے یہ مشکل کام انتہائی محنت اور جاں فشانی سے سر انجام دیا ہے۔
گزشتہ دنوں کاشف منظور ڈائریکٹر جنرل پبلک لائبریریز کے ہاں اس کتاب کا ذکر آیا۔ موضوع کی گیرائی اور احمد جاوید کی استدلال کے سبب کتاب سے دلچسپی بڑھ گئی۔ کاشف منظور نے کتاب عنایت کی۔ مطالعہ شروع کیا تو موضوعات کے تنوع اور استدلال نے باندھ کر رکھ لیا۔
احمد جاوید کو ہم نے کئی بار سنا، ان کی شاعری بھی سنی۔ ان کا انداز بیاں اور........
