menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Istehkam Ka Safar Kab Tamam Hoga?

31 0
15.06.2026

استحکام کا سفر کب تمام ہو گا؟

وفاقی بجٹ 2026-27 اور سالانہ اقتصادی سروے کا سسپنس ختم ہوا۔ سرپنچوں کا کہا بھی سر ماتھے پر رہا اور پرنالہ بھی وہیں کا وہیں رہا۔ حکومت نے سکھ کا سانس لیا کہ آئی ایم ایف کے ماتھے پر شکن نہیں آئی اور اپنی اتحادی جماعت کی بجٹ سے عین پہلے ماتھے پر پڑی تیوری بھی سیدھی ہوگئی۔

حسین اتفاق تھا کہ عین بجٹ اجلاس سے پہلے وزیراعظم نے پیپلز پارٹی کو گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کی دعوت بھی دے دی۔ یوں حکومت نے بھرپور اعتماد کے ساتھ اپنا تیسرا بجٹ پیش کر دیا جس کا خلاصہ کلام مالیاتی استحکام رہا۔

غلط یا صحیح کی بحث میں الجھے بغیر حکومت کا مؤقف تسلیم کہ چند برس قبل پاکستان شدید معاشی بحران سے دوچار تھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک گر چکے تھے، بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ بڑھ رہا تھا، افراطِ زر بلند ترین سطح پر تھی اور معیشت دیوالیہ پن کے خدشات کی زد میں تھی۔

ایسے حالات میں استحکام ناگزیر تھا۔ مالیاتی نظم وضبط ضروری تھا اور آئی ایم ایف پروگرام ناگزیر تھا۔ اس پس منظر میں اگر آج افراطِ زر میں کمی آئی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ نسبتاً قابو میں ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے ہیں اور مالیاتی اشاریوں میں استحکام آیا ہے تو اسے یکسر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا لیکن سوال یہ ہے کہ اس استحکامی سفر کی کوئی آخری منزل بھی ہے؟

اقتصادی سروے کے اعداد وشمار کے مطابق معیشت ابھی تک اس رفتار کو حاصل نہیں کر سکی جو ایک نوجوان آبادی سے بھرے پرے ملک کو درکار ہے۔ صنعتی شعبہ مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ زراعت، جو معیشت کی بنیاد سمجھی جاتی ہے، بڑی فصلوں میں مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں مسلسل ناکام ہے۔

نجی........

© Daily Urdu