Aalmi Index Mein Shumariyati Shobda Bazi Aur Hum
عالمی انڈیکسز میں شماریاتی شعبدہ بازی اور ہم
اقوامِ متحدہ کے ادارے UNDP کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ "گلوبل ملٹی ڈائمینشنل پاورٹی انڈیکس (MPI) 2026" کی رپورٹ جیسے ہی سامنے آئی، ہمارے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا پر سنسنی خیز تبصروں کی دوڑ شروع ہوگئی۔ انتہائی بے جوڑ اور غیرمربوط نتائج کے باوجود شاذ ہی کسی نے نتائج کے تضادات پر غور کیا اور رپورٹ مرتب کرنے کے طریقہ کار کو پرکھنے کی زحمت کی۔
بس ہر طرف ایک ہی ہیڈلائن کی چنگھاڑ تھی کہ پاکستان میں کثیرالجہتی غربت کی شرح 38 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ بھارت میں یہ محض 16 فیصد اور بنگلہ دیش میں 15 فیصد کے قریب ہے۔ مشہور محاورے کا سا منظر تھا کہ "کتا کان لے گیا اور شہر کتے کے پیچھے دوڑ بھاگا"۔
یہ ہمارا روایتی احساس کمتری ہے یا پھر دماغ کو تکلیف دینے سے گریز کہ ہم بغیر سوچے سمجھے اور حقائق کو پرکھے بغیر کسی بھی بین الاقوامی ادارے کے ناقص اعداد وشمار کو حرفِ آخر مان کر سینہ کوبی شروع کر دیتے ہیں، آہ و فغاں کا شور اور بھی بڑھ جاتا ہے، اگر اعداد وشمار میں ملک کی پسماندگی اور تحقیر کا پہلو نمایاں ہو۔ اس رپورٹ کے بے جوڑ نتائج کو ہی دیکھ لیجیے، کیا یہ اعداد و شمار واقعی زمینی حقائق کے عکاس ہیں یا یہ محض "شماریاتی ہیر پھیر" (Statistical Manipulation) کا کرشمہ ہیں؟
اس رپورٹ کے تین نمایاں انڈیکیٹرز ہیں: تعلیم، صحت اور معیار زندگی جنھیں ملا کر نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ عالمی معیشت میں غربت ماپنے کے مختلف پیمانے مستعمل ہیں جو ریسرچ ماڈل کی تشکیل اور اعداد وشمار کی سلیکشن کے اعتبار سے مختلف ہیں، عالمی مالیاتی اداروں کے علاوہ دنیا بھر میں مخلتف تھنک ٹینک ادارے بھی غربت شماری کے دھندے سے اپنا امیرانہ معیار زندگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
شاذ ہی ان میں کوئی ادارہ فیلڈ سرویز کا کشٹ خود اٹھاتا ہے۔ عالمی انڈکس ٹکسالی دھندے میں اپنا ایک چونکا دینے والا ماڈل بنا کر ڈھنڈورا........
