menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Wohi Zibah Bhi Kare Hai, Wohi Le Sawab Ulta

45 0
04.09.2026

وہی ذبح بھی کرے ہے، وہی لے ثواب الٹا

روایت ہے کہ سردار عبدالرب نشتر گورنر ہاوس پنجاب میں اپنی فیملی کے ساتھ موجود تھے، ان کے بیٹے گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم تھے، اپنی سائیکل پر کالج جایا کرتے، گورنر کے فرزند ارجمند ہونے کی بدولت انہیں کسی قسم کا استثناء حاصل نہیں تھا، اُس صبح تیز بارش ہوئی، اپنے والد گرامی کے سامنے اس خواہش کا اظہار کیا کہ بارش ہے لہذا سرکاری ڈرائیور کو کہا جائے، انہیں گاڑی پر کالج چھوڑ آئے، گورنر صاحب نے سنتے ہی سرے سے انکار کر دیاکہا یہ گاڑی انکی ذاتی ملکیت نہیں، صرف سرکاری کاموں کے لئے استعمال ہو سکتی ہے، کالج جانا آپ کا ذاتی معاملہ ہے، تانگے پر سوار ہو کر کالج چلے جاؤ، بیٹوں نے انکے حکم کی تعمیل کی، یہ تھا وہ سنہری عہدسرکاری سطح پر جواب دہی کا احساس گورنر صاحب میں بھی موجود تھا، جب وہ حد درجہ محتاط ہوں تو پھر خیانت کیسے ممکن تھی، اس دور میں گورنر، افسر شاہی اور سرکاری ملازمین کے بچے سرکاری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہوتے، یہی معاملہ ہسپتالوں کا بھی تھا، قریباً تمام وزراء کرام کا علاج سرکاری ہسپتالوں ہی میں ہوتا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ 60کی دہائی میں نور خاں تعلیمی پالیسی کی منظوری کے بعد اس کا نفاذ ہوا، سائنس، ٹیکنالوجی اور آرٹس گروپوں کے لئے الگ الگ سکول ملک بھر میں بنائے گئے، تعلیمی حلقوں نے تعلیمی پالیسی کو سراہا، اس کے تحت کمپری ہنسو، پائلٹ اور ماڈل سکولز طلباء و طالبات کے لئے بنائے گئے، عام شہری سے لے کر افسر شاہی کے بچے ان تعلیمی اداروں میں پڑھے، بعد ازا ں بھٹو........

© Daily Urdu