Iblees Ki Machino Ka Sahara
ابلیس کی مشینوں کا سہارا
نہیں معلوم امارات کے شہزادے کو جس نے حالت امن میں 40کروڑ کی اونٹنی جبکہ شہزادی نے ایک ارب کی گاڑی اور بیسیوں مہنگے گھوڑے خرید کئے تھے، وہ جوشاہانہ زندگی بسر کرہے تھے، ایران کی جانب سے ان کی سرزمین پر داغے گئے 400 میزائلوں سے انہیں کوئی فرق پڑا ہے یانہیں، آبنائے ہرمز کی بندش سے انہیں کوئی پریشانی لاحق ہے بھی یا نہیں کیونکہ تیل کی برآمدات کے لئے یہ سمندری راستہ خلیجی ریاست کی"لائف لائین" ہے، جو انہیں مہنگے شوق پورے کے لئے سرمایہ دیتا ہے۔
المکتوم خاندان کے روح رواں ریاست میں بلند وبالا عمارات تعمیر کرنے میں اتنے مگن رہے کہ ریاست کے دفاع کا انہیں احساس ہی نہ ہوا، اپنی تمام تر صلاحتیں سیاحت کے فروغ پر صرف کر دیں، شاہی خاندان کا یہ خواب تھا کہ خلیجی ریاستوں میں "دوبئی" کو وہ ممتاز مقام ملنا چاہئے کہ دنیا اسے رشک بھری نگاہوں سے دیکھے، اسی کاوش میں یہ خاندان تمام اسلامی روایات، تہذیب، کلچر بھول کر دنیا بھر کے سیاحوں کو وہ تمام تر سہولیات فراہم کرنے میں جت گیا جس کا مغربی معاشرہ میں تصور بھی عنقا تھا، سمندروں میں مصنوعی جزیرے بنانے پر تیل کی دولت کو بے دریغ خرچ کیا، صحرا میں تفریح کے نام پر موسیقی کا وہ کلچر متعار ف کروا کر فحش ڈانس کا ایسا سامان سیاحوں کو فراہم کیا کہ شرمائیں یہود کے مصداق صادق آئے۔
کڑور پتیوں کو رام کرنے کے لئے بہت سی سہولیات دی گئیں، دنیا بھر کے منی لانڈر کے لئے یہ سرزمین جنت بن گئی، ریاست کی گروتھ میں غیر معمولی اضافہ ہوا، برق رفتار ترقی کو دیگر خلیجی ریاستیں بھی........
