menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dhai Saal Ka Inqilab

30 0
27.02.2026

ایسی ہستی جس نے شاہی خاندان میں آنکھ کھولی تو خود کو مصر جیسے بڑے صوبہ کا گورنر پایا، بنی امیہ نے جن گھرانوں کو جاگیروں سے نوازا، ان کا گھرانہ بھی اس سے مستفید ہوا، انکی ذاتی جائیداد کی آمدن پچاس ہزار اشرفی سالانہ تھی، جب وہ پیدا ہوئے تو ان کے زمانہ میں صحابہ اکرامؓ اور تابعین بہ کثرت موجود تھے، آپؒ نے حدیث، فقہ کی پوری تعلیم حاصل کی، محدثین کی صف اول میں شمار کئے جاتے تھے، فقہ میں اجتہاد کا درجہ رکھتے تھے۔

اس کے باوجود رئیسوں کی طرح پوری شان سے رہتے، لباس، خوراک، سواری، مکان، عادات وخصائل سب وہی تھے جو شاہی سرکار میں شہزادوں کے ہوتے ہیں، خلافت جب بادشاہی طرز حکومت میں بدلی، تو جاہلی انقلاب کا فائدہ ان کے بھائی بندوں کو پہنچتے رہے، جو تمدنی اساس نبیﷺ اکرم اور خلفائے راشدین کے دورمیں قائم تھا اس میں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں۔

انکی خاندانی عصبیت، ذاتی طمع اور آئندہ اپنی نسلوں کے مالی تحفظ کا پورا تقاضا تھا کہ وہ تخت شاہی پر فرعون بن کر بیٹھیں، عدل و انصاف کی فراہمی کے چکر میں نہ پڑیں، یہ خود صحابی نہیں تھے مگر ایک امتیاز انہیں یہ حاصل تھا کہ انکی والدہ ماجدہ حضرت عمرؓ کی پوتی تھیں، اسکا ہی فیض تھا کہ جب 37 سال کی عمر میں اتفاقی طور پر تخت شاہی ان کے حصہ میں آیا تو انہوں نے محسوس کیا کہ کس قدر عظیم الشان ذمہ داری اِن پر آن پڑی ہے دفتا ً انکی زندگی کا رنگ بدل گیا۔

کسی ادنی تعامل کے بغیر انہوں نے جاہلیت کے مقابلہ میں اسلام کے راستہ کو اپنے لئے منتخب کیا، بیت لیتے ہوئے مجمع عام میں........

© Daily Urdu