Wonder Boy
یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے، طلعت پاشا، اسماعیل انور پاشا اور احمد جمال پاشا، آج اگر عثمانی سلطنت کا وجود نہیں ہے تو اس کے ذمے دار یہ تین پاشا ہیں، پہلی جنگ عظیم سے قبل ان تینوں نے دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کو اپنے شکنجے میں لے لیا تھا، طلعت پاشا وزیراعظم تھا، اسماعیل انور پاشا وزیر داخلہ اور کمانڈر انچیف جب کہ احمد جمال پاشا نیول چیف اور شام کا گورنر جنرل تھا، عثمانی سلطنت اس زمانے میں رقبے اور وسائل کے لحاظ سے دنیا کی کتنی بڑی سٹیٹ تھی آپ اس کا اندازہ فوج سے لگا لیجیے، عثمانیوں کی فوج ساڑھے 26 لاکھ جوانوں اور افسروں پر مشتمل تھی۔
یہ تینوں پاشا ایک ایک کرکے محل میں داخل ہوئے اور آخری مضبوط بادشاہ سلطان عبدالحمید کو گھیرے میں لیا اور آہستہ آہستہ اسے بے بس اور بے اختیارکرتے چلے گئے، سلطان جنگوں سے بچنا چاہتا تھا لیکن یہ لوگ اپنی جسٹی فکیشن کے لیے ریاست کو بلاوجہ جنگوں میں گھسیٹتے چلے گئے، بادشاہ ملک کو بچانا چاہتا تھا لیکن پاشا اسے تباہ کرنا چاہتے تھے، بادشاہ نے ملک کا پہلا آئین بنایا، پارلیمنٹ تشکیل دی، اخبارات اور رسائل شروع کرائے اور لوگوں کو آزادی دی لیکن پاشائوں نے کسی چیز کو چلنے نہیں دیا یہاں تک کہ انہوں نے مفتی اعظم کی مدد سے بادشاہ کو 1909ء میں معزول اور جلاوطن کر دیاجس کے بعد وہ بے چارہ عسرت اور ذلالت کی زندگی گزار کر 1918ء میں فوت ہوگیا۔
پاشا اس کے بعد اس کے بیٹے محمدرشاد کو ونڈر بوائے بنا کر لے آئے، شہزادے کا نام تبدیل کرکے سلطان محمد الخامس کر دیا گیا، نیا سلطان فضول خرچ، عیاش اور شرابی تھا، پاشائوں نے اس کی عیاشی اور نالائقی دکھا کر "کمیٹی آف یونین اینڈ پراگریس" بنائی اور سلطان کے تمام اختیارات کمیٹی کو دے دیے اور کمیٹی میں صرف یہ تین پاشا تھے گویا سلطان کے تمام اختیارات قانونی طور پر ان کے ہاتھ میں تھے۔
تاریخ ثابت کرتی ہے ملک کا اختیار جب بھی کسی فوجی کمانڈر کے ہاتھ میں آتا ہے تو جنگ ضرور ہوتی ہے، کیوں؟ کیوں کہ جنگ کے دوران تمام اختیارات کمانڈر انچیف کے ہاتھ میں چلے جاتے ہیں، یہ مقدس شخصیت بن جاتا ہے اور اسے ملک میں کوئی چیلنج نہیں کرتا، تینوں پاشائوں نے بھی زیادہ سے زیادہ اختیارات اور خود کو مقدس بنانے کے لیے بے شمار جنگیں چھیڑ دیں، بلقان کی جنگ ہوئی اور مشرقی........
