menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Virasat

78 0
09.07.2026

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے، والد زمین دار اور تاجر تھا، اس نے بے تحاشا پیسہ کمایا اور آخر میں دل کے عارضے کی وجہ سے فوت ہوگیا، والد کی جائیداد زیادہ تھی لہٰذا دونوں بھائیوں کے درمیان پھڈا ہوگیا، بڑے بھائی نے والد کی زمین، گھر اور حجرے پر قبضہ کر لیا جب کہ چھوٹا بھائی دکانوں پر قابض ہو کر بیٹھ گیا، یہ تنازع آہستہ آہستہ کورٹ کچہری اور دنگا فساد تک چلا گیا اور دونوں بھائی دس بارہ سال تک ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہے۔

چھوٹا خان شہر میں رہتا تھا، وہ ایک دن اپنی بیگم، بیٹی اور بیٹے کے ساتھ کہیں جا رہا تھا، راستے میں خانہ بدوشوں نے خربوزوں کی ڈھیری لگائی ہوئی تھی اور دس بارہ سال کی ایک خانہ بدوش لڑکی ڈھیری پر کھڑی ہو کر خربوزے بیچ رہی تھی، چھوٹے خان کی بیٹی خربوزہ کھانے کی ضد کرنے لگی چناں چہ اس نے اپنی گاڑی خربوزوں کی ڈھیری کے ساتھ کھڑی کر دی، بھائی کی بیگم کنجوس تھی، اس نے ایک خربوزہ خریدا اور خانہ بدوش بچی کے ساتھ بھائو تائو شروع کر دیا، بچی خربوزے کے دس روپے مانگ رہی تھی جب کہ بیگم پانچ روپے سے زیادہ دینے کے لیے تیار نہیں تھی۔

بہرحال دس منٹ کی تکرار کے بعد چھ روپے میں سودا ہوگیا، خانہ بدوش بچی جب چھ روپے لے کر جانے لگی تو چھوٹے خان کے بیٹے نے بھی خربوزہ مانگ لیا، بیگم نے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا اور خانہ بدوش لڑکی سے کہا "اے لڑکی بھائی کو بھی ایک خربوزہ دے دو" لڑکی دوڑتی ہوئی گئی، ایک خربوزہ اٹھایا اور گاڑی کی طرف واپس دوڑ لگا دی، سڑک کے قریب اینٹ پڑی تھی، اس کا پائوں ٹکرایا، وہ گری، خربوزہ اس کے ہاتھ سے نکل کر زمین پر گرا اور ٹوٹ گیا، بچی اٹھ کر واپس دوڑی اور دوسرا خربوزہ اٹھا کر لے آئی، بیگم نے لڑکی سے کہا "میں تمہیں زمین پر گرنے والے خربوزے کے پیسے نہیں دوں گی، وہ تمہاری غلطی تھی" خانہ بدوش لڑکی نے ہنس کر کہا "میں آپ سے دونوں خربوزوں کے پیسے نہیں لے رہی"۔

بیگم نے حیران ہو کر پوچھا "کیوں؟" لڑکی نے ہنس کر جواب دیا "آپ نے کہا تھا بھائی کو بھی ایک خربوزہ دے دو، آپ نے اسے میرا بھائی کہہ دیا، میری ماں نے مجھے وصیت کی تھی بھائیوں کے ساتھ کبھی حساب نہیں کرنا، ان سے کبھی سودا نہیں کرنا۔ آپ کا بیٹا آپ کے کہنے کے بعد میرا بھائی بن گیا، میں اب اس سے سودا کیسے کر سکتی ہوں، اس سے حساب کیسے مانگ سکتی ہوں چناں چہ دونوں خربوزے میری طرف سے میرے بھائی کے لیے تحفہ سمجھ کر قبول کریں"۔

یہ بات........

© Daily Urdu