menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Tehran Mein Kya Dekha (3)

22 1
25.01.2026

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ ایران کے وسیع و عریض محلات دیکھنے کا اتفاق ہوا، یہ بھی تہران کی نارتھ سائیڈ پر پہاڑیوں کے دامن میں ہیں، وہ ایک وسیع کمپلیکس تھا جسے سڑکوں اور ٹریکس سے آپس میں جوڑا گیا تھا، گیٹ سے مرکزی عمارت تک الیکٹرک گاڑیوں کے ذریعے پہنچا جاتا ہے، گاڑیاں مسافروں کو محل کے پورچ تک پہنچا دیتی ہیں اور اس کے بعد مختلف محلات کے لیے پیدل چلنا پڑتا ہے۔

تمام عمارتیں پہاڑی راستوں پر ہیں اور ان تک پہنچنے کے لیے ٹانگیں اور پھیپھڑے دونوں ٹھیک ٹھاک استعمال ہوتے ہیں، ہم سب سے پہلے ایران کے آخری بادشاہ محمد شاہ پہلوی کے والد رضا خان پہلوی کے محل میں گئے، ہمیں وہاں جا کر پتا چلا تمام عمارتوں میں داخلے کے لیے الگ الگ ٹکٹ خریدنے پڑتے ہیں اور یہ گیٹ سے ملتے ہیں، ہم بہرحال دوبارہ گیٹ پر آئے، نئے سرے سے ٹکٹ خریدے اور دوبارہ محل میں پہنچ گئے۔

رضا خان پہلوی نے ایران میں پہلوی سلطنت کی بنیاد رکھی تھی، وہ ماژندران صوبے سے تعلق رکھتے تھے، پہلوی ان کا قبیلہ تھا، رضا خان قاچار خاندان کے سیکورٹی گارڈ تھے، وہ ان پڑھ تھے لیکن اس کے باوجود ترقی کی اور پہلے آرمی چیف اور پھر قاچار خاندان کے آخری بادشاہ احمد شاہ کے دست راست بن گئے، احمد شاہ ایک نااہل حکمران تھا، اس کے دور میں ایران طوائف الملوکی کا شکار تھا، رضا خان نے اس کا فائدہ اٹھایا اور بادشاہ کے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے، وہ آرمی چیف کے ساتھ ساتھ وزیراعظم بھی بن گئے۔

احمد شاہ بیمار ہو کر پیرس چلا گیا تو اس کا بھائی ولی عہد بن گیا، وہ بھی نالائق تھا، رضا خان نے اسے فارغ کیا اور 1925ء میں خود بادشاہ بن گیا یوں ایران میں 125 سال پرانی قاچار سلطنت ختم ہوگئی اور پہلوی دور شروع ہوگیا، رضا خان نے ملک کا نام فارس کی جگہ ایران کر دیا اور تہران کو اس کا دارالحکومت بنا دیا، اس نے ملک کو مذہبی کی جگہ لبرل شکل بھی دی، وہ اتاترک کے نقش قدم پر چل رہا تھا۔

1941ء میں برطانیہ نے ایران پر قبضہ کر لیا جس کے بعد وہ اپنے 22 سالہ بیٹے رضا شاہ پہلوی کے حق میں دستبردار ہوگیا اور پہلے ماریشیس اور پھر جنوبی افریقہ جلاوطن ہوگیا، وہ 1944ء میں جوہانس برگ میں انتقال کر گیا، اس کی میت تہران لائی گئی اور اسے شاہ عبدالعظیم کے مزار کے احاطے میں دفن کر دیا گیا۔ رضا خان پہلوی کا محل "گرین پیلس" کہلاتا ہے، وہ چھوٹا سا محل تھا جس میں بادشاہ کا دفتر، ڈرائنگ روم، ڈائننگ روم اور بیڈ روم تھا، محل کی چھت، دیواروں اور فرش پر ٹھیک ٹھاک اخراجات کیے گئے تھے مگر اس کے باوجود محل زیادہ خوب صورت نہیں........

© Daily Urdu