menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Tehran Mein Kya Dekha (1)

21 2
20.01.2026

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا، اسلام آباد سے ڈائریکٹ فلائیٹ تھی، ایران کے بارے میں دنیا غلط فہمی کا شکار ہے، یہ اسے پس ماندہ سمجھتی ہے جب کہ یہ انتہائی ماڈرن اور خوش حال ملک ہے، آپ اس کا اندازہ ہوائی سفر سے لگا لیجیے، ایران میں تیرہ ڈومیسٹک ائیرلائینز اورتمام چھوٹے بڑے شہروں میں ائیر پورٹس ہیں چناں چہ پورے ملک میں فلائیٹ کنکشن ہیں اوریہ پاکستان کے مقابلے میں سستی بھی ہیں شاید اسی لیے ایران کے تمام ائیرپورٹس پر رش نظر آتا ہے۔

تہران میں دو ائیرپورٹس ہیں، امام خمینی ائیرپورٹ انٹرنیشنل فلائیٹس کے لیے مختص ہے جب کہ مہرآباد ائیرپورٹ سے ڈومیسٹک فلائیٹس آپریٹ ہوتی ہیں، مہر آباد وہی ائیرپورٹ ہے جہاں سے16 جنوری 1979ء کو شاہ ایران ملک سے فرار ہوا تھا اور جہاں یکم فروری 1979ء کو امام خمینی نے ایران کی سرزمین پر قدم رکھا تھا، شاہ ایران کے طیارے نے مہرآباد سے آخری اڑان بھری، گھوم کر تہران کا فضائی جائزہ لیا، سڑکوں پر مرگ برشاہ کے نعرے لگاتے لاکھوں لوگوں اور تہران کے پہاڑی سلسلے البورزپر نظر ڈالی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگیا، شاہ ایران نے جلاوطنی میں عبرت ناک زندگی گزاری تھی، پوری دنیا میں صرف مصریوں نے اس کی مدد کی۔

انورسادات نے اسے پناہ دی اورجولائی 1980ء میں انتقال کے بعد اس کی تدفین بھی کی، شاہ ایران کا مقبرہ آج بھی قاہرہ میں الرفائی مسجد میں ہے، مجھے وہاں جانے کا اتفاق ہو چکا ہے۔ ہم پاکستان سے امام خمینی ائیرپورٹ پر اترے، ائیرپورٹ جدید اور شان دار ہے اور یہ امام خمینی کے روضے کے قریب واقع ہے، ہماری پاکستان واپسی بھی اسی ائیرپورٹ سے ہوئی اور ہم اس کے سی آئی پی لائونج کی تعریف کرنے پر مجبور ہوگئے، مہر آباد اور امام خمینی ائیرپورٹس پر بے شمار ٹیکسیاں کھڑی ہوتی ہیں، میرا مشورہ ہے آپ ان کے جھانسے میں نہ آئیں اور ائیرپورٹ کے اندر موجود ٹیکسیوں کی کمپنی سے ٹیکسی لیں، یہ آپ کو سستی بھی پڑے گی اور ڈرائیور راستے میں آپ کو تنگ بھی نہیں کرے گا تاہم ایران میں ٹیکسیوں کا معیار اچھا نہیں ہے۔

گاڑیاں پرانی اور گندی ہوتی ہیں، تہران ایک بڑا اور مصروف شہر ہے، گاڑیاں بہت زیادہ ہیں لہٰذا ٹریفک جام معمول ہے، آپ دس منٹ کا فاصلہ عموماً ڈیڑھ گھنٹے میں طے کرتے ہیں، حکومت نے اس کے تدارک کے لیے ایک دل چسپ فارمولا بنا رکھا ہے، ایک دن میں آڈ (Odd) نمبرز کی گاڑیاں سڑک پر آ سکتی ہیں اور دوسرے دن ایون (Even) نمبرز کی یعنی ایک دن میں تہران کی صرف آدھی گاڑیاں باہر آتی ہیں لیکن اس کے باوجود ٹریفک زیادہ ہوتی ہے، میں آدھی سے زیادہ دنیا دیکھ چکا ہوں مگر تہران سے زیادہ ٹریفک جام میں نے کہیں نہیں دیکھی جب کہ حکومت نے پورے شہر میں ٹنلز، ہائی ویز، انڈر پاسز اور اوورہیڈ برجز بنا رکھے ہیں لیکن اس کے باوجود ٹریفک تہران کا بہت بڑا مسئلہ ہے، ہمیں ائیرپورٹ سے ہوٹل پہنچنے........

© Daily Urdu